ٹی ایم سی نے متنازعہ ریمارکس کے لیے کلیان بنرجی کی مذمت کی۔
کولکتہ: ترنمول کانگریس نے ہفتہ کے روز باضابطہ طور پر ایک لوک سبھا ممبر اور پارٹی کے ایک ایم ایل اے کی مذمت کی، جس میں انہوں نے کولکتہ کے کالج کیمپس میں قانون کی طالبہ کی مبینہ عصمت دری پر متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ پارٹی نے چار بار ترنمول کانگریس کے لوک سبھا ممبر اور کلکتہ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل کلیان بنرجی اور پارٹی ایم ایل اے مدن مترا کی مذمت کی۔
کلیان کے بیان پر کھڑا ہوا تنازعہ
کولکتہ کے ساؤتھ کلکتہ لاء کالج میں 24 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد، تینوں ملزمین کو گرفتار کیا گیا۔ یہ تینوں ملزمین ترنمول کانگریس کے طلبہ ونگ (ترنمول چھاترا پریشد) سے وابستہ ہیں۔ اس معاملے میں ترنمول کانگریس کے ایم پی کلیان بنرجی نے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی دوست اپنے دوست کی عصمت دری کرتا ہے تو حکومت یا پولیس ہر جگہ سیکورٹی نہیں دے سکتی۔ ان کے اس بیان پر کافی تنازعہ ہوا ہے۔
مدن مترا نے بھی دیا متنازعہ بیان
بعد میں مدن مترا نے بھی ایک متنازعہ بیان دیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ ریپ کے واقعے نے تمام لڑکیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ کالج بند ہونے پر انہیں کالج نہیں جانا چاہئے۔ دونوں تبصروں نے مغربی بنگال کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
دونوں کے بیان سے پارٹی کا کِنارَہ کَشی
ہفتہ کو، ترنمول کانگریس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بنرجی اور مترا نے اس معاملے میں جو تبصرے کیے ہیں وہ ان کی ذاتی حیثیت میں کیے گئے تھے اور اس لیے پارٹی نے خود کو ان کے بیانات سے الگ کر لیا اور ان کی سخت مذمت کی۔
پارٹی کے موقف کی عکاسی نہیں کرتے یہ خیالات
بیان میں کہا گیا، ’’یہ خیالات کسی بھی طرح سے پارٹی کے موقف کی عکاسی نہیں کرتے۔ ہمارا موقف مضبوط ہے، ہم خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے زیرو ٹالرینس رکھتے ہیں اور ہم اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘
وکیل نے جسٹس ٹی ایس سیوگننم کو لکھا خط
اس دوران، کلکتہ ہائی کورٹ کی وکیل سوما سبھرا نے ہفتے کے روز کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس سیوگننم کو ایک خط لکھا، جس میں عدالت سے کسبہ لاء کالج عصمت دری کیس کا ازخود نوٹس لینے اور سی بی آئی جانچ کا حکم دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


