ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے بات چیت کے لئے گارنٹی مانگی ہے۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں نیا موڑ آگیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دو امریکی حکام کے حوالے سے بڑا انکشاف کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے گزشتہ دو دنوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو اس منصوبے پر عمل درآمد سے روک دیا۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کو اسرائیلی حملے کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔
امریکی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے ایران
اس انکشاف سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان تہران کو سخت وارننگ دی تھی۔ ٹرمپ نے تہران کو یہ کہتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے کسی بھی طرح سے امریکی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکی فوج پوری طاقت سے ایران پر حملہ کرے گی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کا سفارتی حل ممکن
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کی جس میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ’’ اگر ایران ہم پر کسی بھی طرح سے حملہ کرتا ہے تو امریکی فوج اس پر اس طرح حملہ کرے گی جس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کا سفارتی حل ممکن ہے۔ تاہم ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان آسانی سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں اور اس تنازع کو ختم کر سکتے ہیں۔
ایران نے فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دی تھی دھمکی
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو اس وقت دھمکی دی جب تہران نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اسرائیل پر ایرانی حملے کو روکنے میں مدد کی تو ایران خطے میں ان تمام ممالک کے فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
ایران نے امریکہ پر مبینہ حمایت کا الزام عائد کیا
واضح رہے کہ کل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کے خلاف کیے گئے فضائی حملوں میں امریکہ کی حمایت شامل ہے۔ اتوار کے روز غیر ملکی سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک “جائز دفاعی حق” ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی سرخ لائنوں کو پار کیا ہے، جس کے بعد ایرانی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل کے ان حملوں کے پیچھے امریکہ کی حمایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کی ہری جھنڈی اور عملی مدد نہ ہوتی تو اسرائیلی حملے ممکن ہی نہ تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
