Bharat Express DD Free Dish

DNA profiling of Ahmedabad plane crash victims: ڈی این اے کے ذریعے کی جا رہی ہے احمدآباد طیارہ حادثے میں مرنے والوں کی شناخت، جانیے کیسے لیا جا رہا ہے ڈی این اے کا نمونہ

جیسے ہی کسی کا ڈی این اے میچ ہوتا ہے، متعلقہ خاندان کو اطلاع دی جاتی ہے اور باضابطہ طور پر اس کی شناخت کی تصدیق کے بعد لاش ان کے حوالے کر دی جاتی ہے۔

حادثے کا شکار ایئر انڈیا کا طیارہ (فائل فوٹو)

احمد آباد طیارہ حادثے میں کئی لاشیں اتنی بری طرح جھلس چکی ہیں کہ روایتی طریقوں سے ان کی شناخت ممکن نہیں ہے۔ ایسے میں ڈی این اے سیمپلنگ ان کی شناخت کا واحد سائنسی اور قابل اعتماد طریقہ بن گیا ہے۔ حادثے کے فوری بعد فارنسک ٹیموں نے پوسٹ مارٹم ڈی این اے کے نمونے اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ جسم سے ہڈیاں (خاص طور پر فیمر)، دانت، پٹھے اور اندرونی اعضاء کے حصے اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کا ڈی این اے نکالا جا سکے۔ یہ عمل انتہائی احتیاط اور معیاری پروٹوکول کے تحت کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ متوفی کے لواحقین سے ریفرنس ڈی این اے کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔ اس میں buccal swab (گال کی اندرونی جلد) سب سے عام طریقہ ہے۔ ساتھ ہی اگر رشتہ دار دستیاب نہ ہوں یا ڈی این اے کی ضرورت ہو تو میت کی ذاتی اشیاء مثلاً ٹوتھ برش، ریزر یا پہنے ہوئے کپڑوں سے بھی نمونے لیے جا رہے ہیں۔

ایف ایس ایل میں ہو رہی ہے ڈی این اے پروفائلنگ

تمام نمونے فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) بھیجے گئے ہیں، جہاں ڈی این اے کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے۔ اس پروفائلنگ میں شارٹ ٹینڈم ریپیٹ (STR) مارکر کی مدد سے ہر شخص کا منفرد ڈی این اے پروفائل تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان پروفائلز کو ریفرنس کے نمونوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔

جیسے ہی کسی کا ڈی این اے میچ ہوتا ہے، متعلقہ خاندان کو اطلاع دی جاتی ہے اور باضابطہ طور پر اس کی شناخت کی تصدیق کے بعد لاش ان کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ یہ پورا عمل ڈیزاسٹر وکٹم آئیڈنٹیفکیشن (DVI) پروٹوکول کے تحت کیا جا رہا ہے، جس میں NDRF، پولیس، فارنسک ماہرین، میڈیکل آفیسرز اور شہری ہوا بازی کا محکمہ مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ سائنسی شناخت نہ صرف قانونی عمل کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے متاثرہ خاندانوں کو ان کے رشتہ داروں کی شناخت کے ساتھ ذہنی توازن اور باعزت تدفین کا حق بھی ملتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read