اندور کے راجہ رگھوونشی کے قتل کے ملزم سونم رگھوونشی کے بھائی نے آج راجہ رگھوونشی کے گھر پہنچ کر ان کی ماں سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے ہاتھ جوڑ ے۔ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے ہوے دکھائی دئے ۔
سونم رگھوونشی کے بھائی نے دعویٰ کیا کہ ان کی بہن (سونم رگھوونشی) کا کوئی افیئر نہیں تھا۔ وہ راج کشواہا کو راکھی باندھتی تھیں۔ وہ ہمارے یہاں کام کرتا تھا۔
‘مجرموں کو پھانسی دی جائے’
انہوں نے کہا، “اگر مجھے پتہ ہوتا تو ،میں ایسا نہ ہونے دیتا۔ جس نے بھی قتل کیا ہے اسے پھانسی دی جائے، یہ 10-20 سال کی سزا کی بات نہیں، جس دن یہ شادی ہوئی، میں اسی دن اس خاندان کا حصہ بن گیا (راجہ رگھوونشی)، وہ چلا گیا، میں اس کی ذمہ داری لوں گا، جنہوں نے قبول کیا ہے کہ ہم نے قتل کیا ہے، اسے سزا ملنی چاہیے۔” قاتل کو سزا دوں گا۔
سونم رگھوونشی کے بھائی نے کہا، ”سونم نے 8-9 جون کی رات کو فون کیا تھا، اس نے بتایا کہ وہ بٹی بول رہی ہے ۔ گھر پر اس کا نام بٹی ہے۔ اس کی آواز بدل گئی تھی۔ تو اس نے ویڈیو کال کی۔ میں 25 مئی کو شیلانگ گیا تھا، میں کل رات اندور آیا تھا۔ اس کے بعد میں آج یہاں آیا ہوں۔‘‘
راجہ رگھوونشی اور سونم کی شادی 11 مئی کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد دونوں اپنا ہنی مون منانے کے لیے 20 مئی کو میگھالیہ روانہ ہوئے اور دونوں 23 مئی کو لاپتہ ہو گئے۔ تلاشی مہم کے دوران، راجہ کی لاش 2 جون کو شیلانگ میں ایک آبشار کے قریب سے ملی تھی۔ اس کے بعد سونم کی تلاش میں تیزی آگئی۔
سونم نے قتل کی سازش کا اعتراف کرلیا
میگھالیہ پولیس نے چھاپہ مارا اور سونم کے مبینہ بوائے فرینڈ راج کشواہا اور دیگر کو 8 جون کو گرفتار کیا۔ اسی رات سونم نے یوپی کے غازی پور سے اپنے گھر والوں کو فون کیا۔ اس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔
میگھالیہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ سونم نے راج کشواہا کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ راج کے ساتھ اس کے تعلقات کی وجہ سے، اس نے راجہ کو قتل کرنے کی سازش کی اور اسے کنٹریکٹ کلرز کے ذریعہ قتل کرایاگیا ۔ اس معاملے میں کل 5 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




