مرکزی وزیر صحت اور خاندانی بہبود انوپریہ پٹیل نے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں مرکزی حکومت نے صحت کے میدان میں بے مثال کام کیا ہے۔ حکومت 20 سال پرانی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے نئی نیشنل ہیلتھ پالیسی لائی ہے، جس کے تحت آج ہم ہر قسم کی صحت کی دیکھ بھال پر توجہ دے رہے ہیں۔
پریاگ راج پہنچیں انوپریہ پٹیل
انوپریہ پٹیل اتوار کو اتر پردیش کے پریاگ راج میں واقع سرکٹ ہاؤس پہنچیں۔ اس موقع پر ’اپنا دَل‘ کے کارکنان اور ایم ایل اے کی بڑی تعداد موجود تھی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاں پہلے پورے ملک میں 7ایمس ہوا کرتے تھے، آج 23ایمس قائم ہوچکے ہیں۔ہر گاؤں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ملک بھر میں 1.5 لاکھ سے زیادہ آیوشمان مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
مودی حکومت نے صحت کا نظام بدل دیا
انھوں نے مزید بتایا کہ ’’عام شہری 12 قسم کی صحت کی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پردھان منتری جن اوشدھی کیندر کے ذریعے عام لوگوں کو سستی قیمتوں پر ادویات دستیاب کرائی جا رہی ہیں۔ ہمارا مقصد صحت کی خدمات کو عام لوگوں کے لیے قابل رسائی اور سستا بنانا ہے۔ ہماری حکومت اس سمت میں بہتر کام کر رہی ہے۔ صحت کے شعبے میں بے مثال بہتری آئی ہے اور لوگوں کو ہر جگہ طبی سہولیات مل رہی ہیں۔‘‘
#WATCH | प्रयागराज, उत्तर प्रदेश: केंद्रीय मंत्री अनुप्रिया पटेल ने कहा, “पिछले 11 वर्षों में स्वास्थ्य के क्षेत्र में हमारी सरकार ने अभूतपूर्व काम किया है। सबसे पहले तो हमने 20 साल पुरानी राष्ट्र नीति को बदलकर एक नई नीति को लाने का काम किया है… आज हम रोकथाम, उपचार, उपशामक,… pic.twitter.com/Z4O9zAhtbK
— ANI_HindiNews (@AHindinews) June 8, 2025
دریں اثنا انوپریہ پٹیل نے کل جماعتی وفود کے غیر ملکی دورے سے متعلق کانگریس کے بیانات کو بھی غیر ضروری قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپریشن سندور کا تعلق ملک کی عزت اور سلامتی سے ہے۔ کانگریس لیڈران اس معاملے پر غیر ضروری سیاست کر رہے ہیں۔ جن ممالک میں بھی یہ وفود گئے ہیں، وہاں دہشت گردی کے خلاف بھارت کی پالیسی کو سراہا گیا ہے۔ وہ ممالک اس محاذ پر بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

