پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کے دوست روس نے الگ تھلگ پاکستان کے ساتھ بڑا سودا کیا۔ پاکستانی میڈیا کی جانب سے اس حوالے سے بڑے دعوے کیے گئے۔ روس نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ روس نے ان خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے انہیں بھارت کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
پاکستانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ روس اور پاکستان نے کراچی میں سوویت دور کے اسٹیل پلانٹ کو دوبارہ شروع کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ 1970 کی دہائی میں سوویت یونین نے پاکستان اسٹیل پلانٹ کا ڈیزائن تیار کیا اور اس کے لیے مالی امداد بھی کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب یہ اسٹیل پلانٹ کھنڈرات میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔
پہلگام حملے کے بعد روس بھارت کے ساتھ کھڑا ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 2.6 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ روس کی جانب سے اس کی فیکٹ چیک کی گئی ہے اور اسے فرضی قرار دیا گیا ہے۔ ماسکو نے ایسے معاہدوں پر دستخط کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کی طرف سے کئے گئے آپریشن سندور کے دوران روس ہندوستان کے ساتھ کھڑا تھا۔ روس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ بھارت کو دہشت گردی سے نمٹنے کا پورا حق حاصل ہے۔ آپریشن سندور کے بعد یہ شراکت داری مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
روس کی میڈیا آرگنائزیشن سپوتنک نے واضح کیا ہے کہ ان رپورٹس کو پاکستانی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا کی رپورٹ پر ایک روسی اہلکار نے جمعہ کو کہا کہ ‘یہ کسی ایسے شخص کی طرف سے مبالغہ آمیز خبر ہے، جو سنسنی خیز ہونے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ تعلقات کوخراب کرنا چاہتا ہے۔’
پاک روس معاہدے کا کوئی ثبوت نہیں:ا سپوتنک
اسپوتنک انڈیا نے کہا، ‘روس اور پاکستان کے درمیان 2.6 بلین ڈالر کے معاہدے کی خبر میں قابل اعتماد ذرائع کا فقدان ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ روس اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہوئی ہے، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اربوں ڈالر کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔’ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ دعویٰ نکی ایشیا نے اپنی رپورٹ میں شروع کیا تھا ،جس کو 2022 میں ہی روس میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
