Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court: ہتک عزت کیس میں مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری اور دیگر کو نوٹس جاری، دہلی ہائی کورٹ نے مانگا جواب

دہلی ہائی کورٹ نے ہتک عزت کے مقدمے میں مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے ہتک عزت کے مقدمے میں مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس رویندر دودیجا کی عدالت اس کیس کی اگلی سماعت اکتوبر میں کرے گی۔ تب عدالت یہ بھی فیصلہ کرے گی کہ آیا اس کیس میں درج اپیل کی سماعت کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

نچلی عدالت نے شکایت کنندہ کی موت کے بعد خارج کر دی تھی درخواست

دراصل اس مقدمے میں شکایت کنندہ ایس پی گپتا کی موت کے بعد نچلی عدالت نے درخواست کو خارج کر دیا تھا، حالاں کہ شکایت کنندہ کا بیٹا اس کیس کی پیروی کرنا چاہتا تھا۔ واضح رہے کہ جب بھگت سنگھ کوشیاری گورنر تھے، تب میسرز سنیر ہوٹل لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ایس پی گپتا نے سال 2017 میں ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

اس پر سماعت کے بعد پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے مارچ 2023 میں کوشیاری کو سمن جاری کرتے ہوئے حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔ لیکن چوں کہ یہ کیس ایم پی/ایم ایل اے کورٹ راؤز ایونیو کورٹ میں چلایا جانا چاہیے تھا، لہٰذا کوشیاری نے پٹیالہ کورٹ کے حکم کے خلاف وکلاء کے ذریعے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، جس پر ہائی کورٹ نے انہیں حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔

کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا حق نہیں ہے، کیوں کہ یہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ جس کے بعد کیس کو ہائی کورٹ راؤز ایونیو کورٹ میں بھیج دیا گیا۔ روز ایونیو کورٹ نے بھی کوشیاری کو پیش ہونے کا حکم دیا، جس کے بعد کوشیاری نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، جہاں سے انھیں راحت ملی۔ دریں اثنا شکایت کنندہ کی موت ہو گئی۔ حالاں کہ شکایت کنندہ ایس پی گپتا کے بیٹے نے عدالت سے کیس کو آگے بڑھانے کی درخواست کی، لیکن عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کردی کہ شکایت کنندہ کی موت ہوگئی ہے، اس لیے کیس آگے نہیں بڑھ سکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read