بنگلورو کے سوریا نگر علاقے میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کی ایک خاتون برانچ مینیجر کا تبادلہ اس وقت کر دیا گیا جب انہوں نے ایک صارف کے اصرار کے باوجود کنڑ زبان میں بات کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ صرف ہندی میں گفتگو کریں گی۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد بینک کی جانب سے مذکورہ خاتون افسر کا تبادلہ کر دیا گیا۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری خدمات انجام دینے والے ملازمین کو مقامی زبان کا احترام کرنا چاہیے۔
BIG NEWS 🚨 SBI Bank manager refuses to speak Kannada in bengaluru.
CUSTOMER : This is Karnataka, madam
MANAGER : This is India. I will not speak Kannada for you… I will speak Hindi.
She has now been transferred by the Bank.
CM Siddaramaiah said the branch manager’s refusal… pic.twitter.com/p4BIukoiCd
— Times Algebra (@TimesAlgebraIND) May 21, 2025
“یہ بھارت ہے، میں آپ کے لیے کنڑ نہیں بولوں گی…
بنگلورو کے سوریا نگر، چنداپورہ میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کی ایک شاخ میں زبان کے استعمال پر تنازعہ پیدا ہوا۔ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ برانچ مینیجر نے ایک صارف کی درخواست کے باوجود کنڑ زبان میں بات کرنے سے انکار کیا اور صرف ہندی میں بات کرنے پر اصرار کیا۔ جب صارف نے کہا، “یہ کرناٹک ہے، میڈم”، تو مینیجر نے جواب دیا، “یہ بھارت ہے، میں آپ کے لیے کنڑ نہیں بولوں گی… میں ہندی بولوں گی” ۔
بینک ملازمین کیلئے ثقافتی اور لسانی حساسیت کی تربیت لازمی ہو
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا، اور کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے اس رویے کو “سخت قابل مذمت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بینک کے تمام ملازمین کو مقامی زبان کا احترام کرنا چاہیے اور صارفین کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے بینک کے فوری اقدام، یعنی متعلقہ مینیجر کا تبادلہ، کا خیرمقدم کیا اور وزارت مالیات اور مالیاتی خدمات کے محکمے سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام بینک ملازمین کے لیے ثقافتی اور لسانی حساسیت کی تربیت لازمی قرار دیں ۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ کرناٹک میں صارفین سے مقامی زبان میں بات چیت کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بینکنگ جیسے شعبوں میں مقامی زبانوں کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
Salute to this lady for taking her stand.
If the customer didn’t understand Hindi or English, there are other staff members in the branch who can assist and provide service in the local language.
Why was he forcing her to speak in kannada?
In response, SBI has transferred… pic.twitter.com/pLLUyDbX5s
— Lakshay Mehta (@lakshaymehta31) May 21, 2025
زبان نہ بولنے کی بنیاد پر کارروائی کرنا انصاف پر مبنی نہیں
تاہم، اس فیصلے پر کئی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے مذکورہ خاتون کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صارف کو ہندی یا انگریزی سمجھ نہیں آتی تھی تو برانچ میں موجود دیگر عملہ ان کی مدد کر سکتا تھا۔ ایسے میں صرف ایک ملازم پر زبان نہ بولنے کی بنیاد پر کارروائی کرنا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔
کئی صارفین نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ شمالی ہندوستان کے تعلیمی اداروں، بالخصوص ہریانہ، پنجاب، اور دہلی میں جنوبی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد، مثلاً کیرالہ، کرناٹک اور تمل ناڈو کے لوگ ملازمت کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی کو ہندی نہیں آتی، لیکن کبھی کسی نے ان پر زبان کے استعمال کے لیے زور نہیں دیا۔
کثیر لسانی ملک میں بین الثقافتی ہم آہنگی
یہ واقعہ نہ صرف زبان کے استعمال بلکہ بھارت جیسے کثیر لسانی ملک میں بین ثقافتی ہم آہنگی اور عوامی خدمات کے معیار پر بھی ایک اہم سوال اٹھاتا ہے۔ کیا سرکاری ملازم کو مقامی زبان سیکھنے پر مجبور کیا جانا چاہیے؟ یا پھر یہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لسانی تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائیں؟
اس بحث نے ایک بڑے سماجی اور لسانی مباحثے کو جنم دیا
اس واقعے نے کرناٹک میں لسانی شناخت اور مقامی زبانوں کے احترام کے حوالے سے ایک وسیع تر بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عوامی خدمات میں کام کرنے والے ملازمین کو مقامی ثقافت اور زبان کے تئیں حساس ہونا چاہیے تاکہ تمام صارفین کو مساوی اور باعزت سروس فراہم کی جا سکے۔ فی الوقت، اس بحث نے ایک بڑے سماجی اور لسانی مباحثے کو جنم دیا ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

