Bharat Express DD Free Dish

‘Homebound’ in Cannes Film Festival: کانز فلم فیسٹیول: کرن جوہر اور نیرج گھایوان کی فلم ہوم باؤنڈ کا شاندار استقبال، دلوں کو چھو گئی فلم کی کہانی

’ہوم باؤنڈ‘ شمالی بھارت کے ایک پسماندہ گاؤں میں رہنے والے دو نوجوان دوستوں کی مشترکہ تکلیف، جدوجہد اور بے مثال دوستی کی کہانی ہے۔ دونوں نوجوان سماج کے پچھڑے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور زندگی سے برسرپیکار ہیں۔

78ویں کانز فلم فیسٹیول کے دوسرے سب سے اہم سیکشن ’ان سرٹن ریگارڈ‘ میں بدھ، 21 مئی کو ڈیبیوسی تھیٹر میں کرن جوہر (پروڈیوسر) اور نیرج گھایوان (ہدایتکار) کی فلم ’ہوم باؤنڈ‘ کا زبردست استقبال کیا گیا۔ فلم کے اختتام پر ناظرین نے کھڑے ہو کر دس منٹ تک تالیاں بجائیں۔ فلم میں ایشان کھٹر، جھانوی کپور اور وِشال جیٹھوا نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ کرن جوہر کی کمپنی “دھرما پروڈکشن” اس فلم کی مرکزی پروڈیوسر ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہالی وڈ کے مایہ ناز فلم ساز مارٹن اسکورسیزی اس فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ہیں۔ انہوں نے فلم اور نیرج گھایوان کی زبردست تعریف کی ہے۔ انہوں نے نیرج کی پچھلی فلم ’مسّان‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تبھی سمجھ گئے تھے کہ یہ نوجوان ہدایتکار غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

دس سال قبل ’مسّان‘ کا عالمی پریمیئر بھی کانز فیسٹیول کے اسی سیکشن میں ہوا تھا، جہاں اسے دو ایوارڈز ملے تھے۔ اب ’ہوم باؤنڈ‘ کو بھی ہر جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔ فیسٹیول کے ڈائریکٹر تھیری فریمو اور پروگرامنگ ہیڈ کرسچین جین نے خود آ کر نیرج گھایوان کو مبارکباد دی۔

فلم کی نمائش کے موقع پر ہدایتکار نیرج گھایوان، پروڈیوسر کرن جوہر، اور اداکار ایشان کھٹر، جھانوی کپور، وِشال جیٹھوا سمیت پوری ٹیم موجود رہی، جنہوں نے ناظرین کے ساتھ فلم دیکھی۔

فلم کی کہانی اور اس کے کردار

’ہوم باؤنڈ‘ شمالی بھارت کے ایک پسماندہ گاؤں میں رہنے والے دو نوجوان دوستوں کی مشترکہ تکلیف، جدوجہد اور بے مثال دوستی کی کہانی ہے۔ دونوں نوجوان سماج کے پچھڑے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور زندگی سے برسرپیکار ہیں۔ چندن کمار (وِشال جیٹھوا) ایک دلت ہے، اور محمد شعیب علی (ایشان کھٹر) مسلمان۔ دونوں کو ذات پات اور مذہب کے سبب قدم قدم پر ذلت، امتیاز اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ اپنے گاؤں، سماج اور ملک سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اسی لیے روزگار کی تلاش میں باہر جانے کے بجائے وہیں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

انٹرمیڈیٹ کے بعد وہ آگے تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔ ان کی آخری امید پولیس کانسٹیبل بننا ہے۔ قسمت سے چندن کامیاب ہو جاتا ہے، مگر شعیب فیل ہو جاتا ہے۔ چندن ہر جگہ فارم میں اپنی ذات کو “جنرل کیٹیگری” میں ظاہر کرتا ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اگر وہ ریزرویشن کی وجہ سے منتخب ہوا تو عمر بھر دلت سمجھا جائے گا۔

فلم کی شروعات ریلوے اسٹیشن پر پولیس بھرتی کے امتحان کے لیے آئے نوجوانوں کے ہجوم سے ہوتی ہے، جہاں چندن کی ملاقات اپنی ہی ذات کی ایک سمجھدار لڑکی سدھا بھارتی (جھانوی کپور) سے ہوتی ہے۔ دونوں کے درمیان دوستی اور پھر محبت کے جذبات پنپتے ہیں، مگر حالات کی مجبوری سے وہ رشتہ آگے نہیں بڑھ پاتا۔ سدھا چاہتی ہے کہ چندن پڑھ کر کچھ بنے، مگر چندن کو فوری روزگار چاہیے۔ سدھا کہتی ہے: “ہمیں بوری سے اٹھ کر کرسی تک کا سفر خود طے کرنا ہے”۔

آخرکار، بھرتی کا انتظار کرتے کرتے چندن تھک ہار کر سورت کی کپڑے کی فیکٹری میں مزدوری کرنے لگتا ہے۔ اس کی ماں کی اسکول میں مڈ ڈے میل کی نوکری اس لیے چلی جاتی ہے کیونکہ اونچی ذات والے لوگ دلت کے ہاتھ کا پکا کھانا اپنے بچوں کو نہیں کھلانا چاہتے۔

ادھر شعیب کو پانی صاف کرنے والی کمپنی میں چپراسی کی نوکری ملتی ہے۔ اس کی صلاحیت دیکھ کر باس اسے سیلز ایجنٹ بنانے کی پیشکش کرتا ہے، مگر مسلمان ہونے کے سبب اسے مستقل شناختی دستاویزات، آدھار کارڈ اور پولیس کلیئرنس دکھانے کو کہا جاتا ہے۔ پاکستان سے بھارت کے کرکٹ فائنل میچ کے دوران باس کے گھر پارٹی میں شعیب کو ذلیل کیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ نوکری چھوڑ دیتا ہے۔

شعیب، جو اپنے والد کے گھٹنوں کے آپریشن کے لیے قرض لے چکا ہے، قسمت سے چندن کے ساتھ سورت پہنچ جاتا ہے۔ دونوں نیا زندگی شروع ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ کورونا لاک ڈاؤن ہو جاتا ہے۔ وہ کسی طرح ایک ٹرک کے ذریعے گاؤں لوٹنے نکلتے ہیں، مگر راستے میں چندن کو کھانسی آتی ہے اور کورونا کے خوف سے دونوں کو سڑک پر اتار دیا جاتا ہے۔ شعیب کی لاکھ کوششوں کے باوجود چندن چلتے چلتے دم توڑ دیتا ہے۔

اس کے بیگ سے ماں کے لیے ایک جوڑی چپل اور شعیب کے والد کے لیے ایک چھاپ والی لنگی نکلتی ہے۔ آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ چندن کا پکا مکان بن چکا ہے۔ ایک پولیس جیپ آ کر رکتی ہے اور سپاہی شعیب کو ایک لفافہ دیتا ہے۔ اس میں چندن کے نام پولیس کانسٹیبل کی تقرری کا سرکاری آرڈر ہوتا ہے۔

دل چھو لینے والی کہانی اور شاندار اداکاری

’ہوم باؤنڈ‘ کے کئی مناظر انتہائی دل کو چھو لینے والے ہیں۔ دو نوجوانوں کی بے بسی اور بقا کے لیے ان کی جدوجہد کو نہایت حساس انداز میں دکھایا گیا ہے۔ فلم میں نہ کوئی نعرے بازی ہے، نہ وعظ، اور نہ ہی ظاہری تشدد۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقت خود ہی شعیب، چندن اور سدھا کا سب سے بڑا دشمن بن گیا ہے۔

فلم کے کچھ بہترین ڈائیلاگ

ریلوے اسٹیشن پر ہجوم کے درمیان شعیب کہتا ہے: “ہم امتحان دینے جا رہے ہیں یا جنگ لڑنے؟”

پولیس افسر چندن سے کہتا ہے: “شیر کی کھال پہن لینے سے گیدڑ، شیر نہیں بن جاتا”۔

شعیب کہتا ہے: “پرکھوں کی دعائیں تو انہی ہواؤں میں ہیں، اسے چھوڑ کر کیسے جائیں؟”

اداکاری کی بات کی جائے تو ایشان کھٹر، جھانوی کپور اور وِشال جیٹھوا نے شاندار پرفارمنس دی ہے۔ اسکرین پلے مضبوط ہے اور فلم آخر تک ناظرین کو باندھے رکھتی ہے۔ ہدایتکار نے جو کہنا تھا وہ کیمرے کی آنکھ سے مناظر اور کم سے کم مکالموں کے ذریعے بیان کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read