’وقف (ترمیمی) قانون، 2025‘ کو چیلنج پیش کرنے والی عرضیوں پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے عرضی گزاروں کے وکلاء کی دلیلیں بغور سنیں اور کچھ معاملوں میں وضاحت کے لیے سوال بھی سامنے رکھے۔ آج ظہرانہ سے قبل اور پھر اس کے بعد مجموعی طور پر تقریباً 4 گھنٹے کی سماعت ہوئی جس میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف کئی مضبوط دلیلیں پیش کی گئیں۔ آج کی سماعت کے دوران عرضی دہندگان کے وکلاء کپل سبل، ابھشیک منو سنگھوی، راجیو دھون، حذیفہ احمدی وغیرہ نے اپنی بات عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھی۔ کل جب سماعت شروع ہوگی تو حکومت کی طرف سے عرضی گزار کے خدشات اور سوالات پر جواب پیش کیے جائیں گے۔ آج کی سماعت میں مذکورہ وکلاء نے کئی مضبوطی دلیلیں پیش کیں، جن میں سے چند اہم دلائل یہ ہیں۔
* سینئر ایڈووکیٹ ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ عطیہ دوسرے مذاہب میں بھی ہوتے ہیں، لیکن کس مذہب کے لیے لوگوں کے لیے یہ انتظام ہے کہ آپ کو 5 سال یا 10 سال اس مذہب پر عمل کرنے کا ثبوت دکھانا ہوگا؟ وقف ترمیمی قانون میں موجود یہ سہولت آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے۔
* ایڈووکیٹ ابھشیک منو سنگھوی نے دلیل پیش کی کہ وقف کے رجسٹریشن کے نام پر ایک طرح کی دہشت پیدا کی جا رہی ہے۔ جہاں متعلقہ شخص یا ادارہ کو بار بار رجسٹریشن کرانے دفتر جانا ہوگا۔ سنگھوی نے سروے اور اس کے بعد حکومت کی طرف سے دیے گئے اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھائے۔
* ایڈووکیٹ سنگھوی کی دلیل یہ بھی تھی کہ ’وقف بائی یوزر‘ یعنی استعمال کی بنیاد پر وقف مانی جانے والی بیشتر جائیدادوں کا کہیں کوئی رجسٹریشن نہیں ہے۔ اب ان جائیدادوں کو ایک طرح سے انصاف مانگنا ہوگا۔ کوئی بھی آنے والے دنوں میں تنازعہ کھڑا کر سکتا ہے، اور اس طرح وقف کا درجہ ختم ہو سکتا ہے۔
* ایڈووکیٹ سنگھوی نے یہاں تک کہا کہ نئی ترمیم کا سیکشن 3 ڈی چونکہ قدیم یادگاروں کے لیے بنے قوانین پر بھی نافذ ہوتا ہے، اس کا اثر ان مذہبی مقامات پر بھی پڑ سکتا ہے جو اب تک ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ‘ کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ کسی ایک مذہب سے منسلک جائیداد کے لیے اس طرح کا انتظام کرنا آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے۔
* سینئر ایڈووکیٹ راجیو دھون نے عرضی دہندگان کی طرف سے کہا کہ مذہبی ملکیتوں کی تعریف کو برطانوی دور میں بھی نہیں بدلا گیا۔ ہم ایک سیکولر ملک ہیں۔ میرا ایک موکل جو سِکھ ہے، وہ وقف کرنا چاہتا ہے، لیکن اس قانون کے بعد کیا وہ ایسا کر سکتا ہے؟ اس طرح تو عدالتوں نے جو بھی سیکولر فیصلے اب تک دیے ہیں، وہ ایک جھٹکے میں ختم ہو جائیں گے۔
* ایڈووکیٹ دھون نے واضح کیا کہ وقف اور اس سے جڑے قدیم قوانین پر کئی آئینی بنچ فیصلے دے چکی ہیں۔ چاہے وہ بابری مسجد کا معاملہ ہو یا پھر کوئی دوسرا۔ سبھی معاملوں میں وقف بائی یوزر یعنی استعمال کی بنیاد پر وقف ملکیت بنے رہنے کا فیصلہ یہی عدالت دے چکی ہے، پھر اب یہ نیا کیوں؟
* کپل سبل نے اے ایس آئی کی ویب سائٹ پر موجود ایک فہرست دکھاتے ہوئے کہا کہ ایک بار جب وہ محفوظ ہو جاتے ہیں تو اس کا وقف کا درجہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس میں جامع مسجد سنبھل بھی شامل ہے۔ اس لیے کوئی بھی تنازعہ اٹھے گا اور پھر اس جگہ کا وقف درجہ ختم ہو جائے گا۔
* آج کی سماعت کے دوران جب ملک کے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ مجموعی طور پر 3 موضوعات ہیں، جن پر روک کا مطالبہ کیا گیا ہے، تو سبل نے کہا کہ صرف 3 موضوعات نہیں ہیں۔ پورے وقف پر قبضہ کا معاملہ ہے۔ ایڈووکیٹ کپل سبل نے کہا کہ قانون کا مقصد وقف پر قبضہ کرنا ہے۔ قانون اس طرح بنایا گیا ہے کہ وقف جائیدادوں کو بغیر کسی طریقۂ کار پر عمل کیے چھین لیا جائے۔
* ایڈووکیٹ کپل سبل نے کہا کہ وقف جائیدادوں کے انتظام کا حق چھین لیا گیا ہے۔ مرکزی وقف کونسل کے بیشتر اراکین غیر مسلم ہیں۔ نئے قانون کی دفعہ 9، اس میں 12 غیر مسلم اور 10 مسلم ہیں۔ پہلے یہ سبھی مسلم تھے۔ اب یہ سبھی نامزد ہیں۔
* پانچ سال تک اسلام پر عمل کرنے کے التزام پر ایڈووکیٹ حذیفہ احمدی نے سخت اعتراض ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ کس طرح طے ہوگا کہ مجیں اسلام مذہب پر عمل کرتا ہوں یا نہیں؟ کیا کوئی مجھ سے یہ پوچھ کر طے کرے گا کہ میں 5 وقت کا نماز پڑھتا ہوں یا نہیں۔ یا پھر کوئی یہ پوچھے گا کہ میں شراب پیتا ہوں یا نہیں، کیا اس طرح سے طے کیا جائے گا؟
اس معاملے میں ’وقف (ترمیمی) قانون‘ کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والے عرضی دہندگان کی طرف سے پیش سینئر وکیل کپل سبل اور ابھشیک منو سنگھوی نے مرکز کی دلیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اہم قوانین پر ٹکڑوں میں سماعت نہیں ہو سکتی۔ کپل سبل نے دلیل پیش کی کہ ترمیم شدہ قانون آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم تو سبھی موضوعات پر دلیل رکھیں گے۔ یہ مکمل وقف جائیداد پر قبضہ کرنے کا معاملہ ہے۔ کپل سبل نے سپریم کورٹ سے کہا کہ اس معاملے مین عبوری حکم جاری کرنے پر سماعت ہونی چاہیے۔ یہ قانون غیر آئینی اور وقف جائیداد کو کنٹرول کرنے والا اور چھیننے والا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

