Bharat Express DD Free Dish

Indo-Pak Tension: جنگ بندی کے درمیان سرینگر اور ادھم پور میں سنی گئیں دھماکوں کی آوازیں، پنجاب کے فیروزپور اور راجستھان کے باڑمیر میں مکمل بلیک آؤٹ

آج شام ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود تازہ اطلاعات کے مطابق جموں و کشمیر کے سرینگر اور ادھم پور میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

آج شام ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود تازہ اطلاعات کے مطابق جموں و کشمیر کے سرینگر اور ادھم پور میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اے این آئی کی خبر کے مطابق سرینگر میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور ہندوستانی فوج نے ادھم پور میں کئی پاکستانی ڈرونز کو ناکام بنایا ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پوچھا-جنگ بندی کا کیا ہوا؟

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دھماکوں کی خبر کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے لکھا ’’جنگ بندی کا کیا ہوا؟ سرینگر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں‘‘۔ انھوں نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایک اور پوسٹ میں لکھا ’’کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔ سرینگر کے مرکز میں ابھی ایئر ڈیفنس یونٹ نے کام شروع کیا‘‘۔

آج شام ہی کیا گیا ہے جنگ بندی کا اعلان

واضح رہے کہ آج شام وزارت خارجہ کے سکریٹری وکرم مسری اور وزارت دفاع، دونوں کی پریس بریفنگ میں یہ اعلان کیا گیا تھا ہندوستان اور پاکستان نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے اور مزید بات چیت 12 مئی کو متوقع ہے۔ تاہم سرینگر اور ادھم پور میں دھماکوں کی آواز کے بعد جنگ بندی کو لے پھر سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

دریں اثنا اطلاعات کے مطابق پنجاب کے فیروز پور میں بھی پاکستانی ڈرون نظر آئے ہیں اور فیروز پور کے ساتھ راجستھان کے باڑمیر میں مکمل بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ اور اے این آئی کی خبر کےمطابق جموں و کشمیر کے سرینگر میں ہندوستانی ایئر ڈیفنس سسٹم پاکستانی ڈرونز کو مار گرا رہا ہے۔ وزارت دفاع یا فوج کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read