ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کے بڑھتے ہی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعہ کو اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی کے ساتھ فون پر بات چیت کی اور انھیں بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف ’’صفر رواداری‘‘ کی پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔ جے شنکر اور لیمی کی بات چیت نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کے اسٹریٹجک شراکت داروں کی کوششوں کے پس منظر میں ہوئی۔
وزیر خارجہ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ’’ہماری بات چیت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے پر مرکوز تھی، جس کے لیے صفر رواداری ہونی چاہیے۔‘‘ اس سے قبل جے شنکر نے جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، اطالوی نائب وزیر اعظم انتونیو تاجانی اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کاجا کالس کے ساتھ بھی فون پر بات چیت کی۔
امریکہ نے بات چیت پر دیا زور
واضح رہے کہ بدھ کے اوائل میں بھارت کے ’آپریشن سندور‘ اور اس کے بعد پاکستان کی جانب سے 15 بھارتی شہروں پر حملے کی ناکام کوشش کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی بروس نے کہا کہ روبیو نے فوری طور پر کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ انھوں نے کہا ’’انھوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے امریکی حمایت کا اظہار کیا اور مواصلات کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔‘‘
وزیر خارجہ نے یورپی پونین سے کہا-کسی بھی کشیدگی کا سخت جواب دیا جائے گا
کالس کے ساتھ فون پر بات چیت پر جے شنکر نے کہا: ’’EU HRVP @kajakallas کے ساتھ جاری پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’ہندوستان کی کارروائیاں نپی تلی ہیں۔ تاہم کسی بھی طرح کی کشیدگی کا سخت جواب دیا جائے گا۔‘‘ وہیں ہندوستان-پاکستان کشیدگی پر یورپی یونین نے کہا کہ وہ ’’خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نتائج بشمول مزید جانوں کے ممکنہ نقصان کی گہری تشویش میں مبتلا ہے اور اس کی نگرانی کر رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’یورپی یونین دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں طرف سے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مزید حملوں سے باز رہنے کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘
برطانوی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا
دریں اثنا برطانوی وزیر خارجہ نے بدھ کو کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدگی ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ انھوں نے کہا ’’برطانیہ کی حکومت ہندوستان اور پاکستان پر زور دے رہی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور آگے بڑھنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کے لیے براہ راست بات چیت میں شامل ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’برطانیہ گزشتہ ماہ پہلگام میں ہونے والے خوفناک دہشت گردانہ حملے کی واضح مذمت کرتا ہے۔ ہمیں علاقائی استحکام کو بحال کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقوں کو فوری طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

