تین نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ۔
آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے ساتھ دہلی میں تین نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کے تعلق سے ایک اعلی سطحی جائزہ میٹنگ کی۔ اس دوران پولیس، جیل، عدالت، پراسیکیوشن اور فرانزک سے متعلق مختلف دفعات کی پیش رفت اور موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران اس جائزہ میٹنگ مرکزی داخلہ سکریٹری، دہلی حکومت کے چیف سکریٹری، دہلی پولیس کمشنر، بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (بی پی آر اینڈ ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے ڈائریکٹر اور وزارت داخلہ اور دہلی حکومت کے سینئر افسران موجود رہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے دیں ضروری ہدایات
میٹنگ میں افسران کو مخاطب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں نافذ کیے گئے نئے فوجداری قوانین سے زمینی سطح پر پولیس کی کارکردگی اور جواب دہی میں اضافہ ہوگا۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ نئے قوانین پر موثر عملدرآمد کے لیے افسران کا احتساب یقینی بنایا جائے۔ امت شاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چارج شیٹ داخل کرنے کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جانی چاہئے تاکہ 60 اور 90 دنوں کی مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کیا جائے۔
انھوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ سنگین جرائم میں سزا کی شرح کو کم از کم 20 فیصد تک بڑھانے کی کوشش کی جائے۔ میٹنگ میں وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ اب ای سمن براہ راست عدالتوں سے جاری کیے جائیں اور ان کی کاپیاں متعلقہ مقامی تھانوں کو بھی بھیجی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈائریکٹوریٹ آف پراسیکیوشن میں تقرریوں کے عمل کو تیز کرنے اور کسی بھی اپیل سے متعلق فیصلے کو ڈائریکٹوریٹ آف پراسیکیوشن کے ذریعے ہی لینے کو یقینی بنانے کی بھی ہدایات دی گئیں۔
آئندہ بھی منعقد کیے جائیں ایسے جائزہ اجلاس
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق نئے فوجداری قوانین کے کامیاب اور بروقت نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اس طرح کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس آگے بھی باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے، تاکہ ملک بھر میں امن و امان کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


