مندسور میں بڑا حادثہ
بھوپال: مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع میں اتوار کو ہونے والے ایک المناک حادثے میں بوڑھا ٹاکراوت کراسنگ کے قریب کچریہ چوپاٹی گاؤں میں 13 عقیدت مندوں کو لے جانے والی ایک وین کھلے کنویں میں گر گئی۔ اس حادثے میں اب تک 11 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جن میں ایک ریسکیو بھی شامل ہے۔ اس حادثے میں دو چھوٹے بچوں سمیت چار افراد شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق وین موٹر سائیکل سے ٹکرانے کے بعد کنٹرول کھو بیٹھی اور تقریباً 15 فٹ گہرے کنویں میں جاگری۔
پولیس نے بتایا کہ جب مقامی رہائشی منوہر سنگھ نے وین میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی تو وین میں موجود ایل پی جی گیس کے زہریلے دھوئیں کی زد میں آیا تو وہ اپنی جان گنوا بیٹھا۔ نارائن گڑھ پولیس اسٹیشن کے سربراہ انیل رگھوونشی نے آئی اے این ایس کو بتایا، ’’اب تک 11 لوگوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں بچاؤ کرنے والے منوہر سنگھ اور بائک سوار گوبر سنگھ بھی شامل ہیں۔ ریسکیو آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔‘‘
منوہر سنگھ سنجیت گاؤں کا رہنے والا تھا، جب کہ گوبر سنگھ سیتاماؤ کا رہنے والا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق منوہر سنگھ کی موت کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے جے سی بی اور کرین جیسی بھاری مشینوں کا استعمال کیا گیا، لیکن وین میں پھنسے کئی مسافر دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔
ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ جگدیش دیوڈا بھی موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنے ایکس پر پوسٹ کیا، ’’ملہار گڑھ اسمبلی حلقہ کے کچریہ چوپاٹی گاؤں میں ایک چار پہیہ گاڑی کے کنویں میں گرنے کے دل دہلا دینے والے واقعے کی اطلاع ملنے پر، میں فوری طور پر موقع پر پہنچا اور اس کا معائنہ کیا اور کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ریسکیو کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔‘‘
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے زخمیوں کی نازک حالت پر تشویش کا اظہار کیا۔ لیکن یقین دلایا کہ ان سب کو بروقت اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ دیوڈا نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے گہرے تعزیت کا اظہار کیا اور عہدیداروں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
حادثے میں بچائے گئے افراد میں 26 سالہ مایا کیر کے علاوہ تین اور 12 سال کے دو بچے شامل ہیں، جنہیں مندسور کے ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ وین ضلع اُجین کے انہیل سے نیمچ ضلع کے اندری ماتا مندر جا رہی تھی کہ یہ حادثہ پیش آیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




