دہلی کی ایک عدالت میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جب ایک مجرم اور اس کے وکیل نے ایک خاتون جج کو دھمکیاں دیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا، جب عدالت نے ملزم کو ایک مقدمے میں سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد ملزم نے غصے میں آکر جج سے بدتمیزی کی اور کہا، “تو ہے کیا چیز، باہر مل،دیکھتے ہیں کیسے زندہ گھر جاتی ہے،۔” اس کے اس رویے نے عدالت میں موجود سب کو چونکا دیا اور عدالتی کارروائی کے وقار کو چیلنج کردیا۔خاتون جج نے اس صورتحال میں نہایت صبر و تحمل سے کام لیا اور فوری طور پر سیکیورٹی عملے کو طلب کیا۔ ملزم کے وکیل نے بھی اس موقع پر نامناسب رویہ اپنایا اور جج کو دھمکانے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ نہ صرف عدالتی نظام کے احترام کے خلاف تھا بلکہ خواتین کے وقار پر بھی ایک حملہ تھا۔ عدالت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔
اس واقعے کے بعد عدالت نے ملزم اور اس کے وکیل کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے رویے کی سزا سخت ہو سکتی ہے، جس میں جرمانہ اور قید دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، عدالتی عملے اور گواہوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس سے عدالتی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔دہلی ہائی کورٹ کے وکلاء کی تنظیم نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ملزم اور وکیل کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جج کے ساتھ اس طرح کا سلوک ناقابل برداشت ہے اور اس سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوتی ہے۔ تنظیم نے عدالتی تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین کا مطالبہ بھی کیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔
“Tu hai kya cheez ………….ki tu bahar mil dekhte hai kaise zinda ghar jaati hai……..(Who even are you… just meet me outside and let’s see how you make it back home alive),” the accused told the judge as noted in the Court’s order.
Read more: https://t.co/50NFN1oRkg pic.twitter.com/rQqky0WerV
— Bar and Bench (@barandbench) April 21, 2025
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نہ صرف قوانین بلکہ ان کے نفاذ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خاتون جج کی ہمت اور صبر کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، جنہوں نے اس مشکل صورتحال میں اپنے فرائض کو احسن طریقے سے نبھایا۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ عدالت اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتی ہے اور اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



