عام آدمی کو مہنگائی کے محاذ پر ایک بار پھر بڑا ریلیف ملا ہے۔ مارچ کے مہینے میں تھوک مہنگائی میں کمی آئی ہے۔ تھوک قیمتوں پر مبنی افراط زر کی شرح مارچ 2025 میں 2.05 فیصد کی 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ اس سال فروری میں یہ 2.38 فیصد تھی۔ وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے باعث مارچ میں تھوک قیمت کی بنیاد پر مہنگائی 2.05 فیصد پر آگئی جو چار ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کی بہتر سپلائی کے باعث حالیہ مہینوں میں ہول سیل مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
عام آدمی کو ریلیف، معیشت کے لیے اچھے اشارے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کا براہ راست اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء سستی ہونے لگیں۔ جس سے عام لوگوں کی جیبوں پر بوجھ کم ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے ایک اچھا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ مہنگائی سے راحت کے لیے مودی حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کی جا رہی ہے۔ امریکی ٹیرف وار، کورونا وبا، حماس اسرائیل تنازع اور روس یوکرین جنگ کی وجہ سے پوری دنیا اس وقت کساد بازاری اور مہنگائی کا شکار ہے۔ امریکہ جیسی ترقی یافتہ معیشت والے ممالک بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان نے مہنگائی پر قابو پا کر اقتصادی محاذ پر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں، معیشت میں اضافہ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس سے مودی حکومت اور ملک کے عوام کو بڑی راحت ملی ہے۔
فروری میں آئی آئی پی کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی
اقتصادی محاذ پر بہتر کارکردگی کے باعث فروری 2025 میں صنعتی پیداوار (IIP) کی شرح نمو بڑھ کر 2.9 فیصد ہوگئی۔ قومی شماریاتی دفتر (NSO) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فروری میں مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سال بہ سال 2.9 فیصد، کان کنی کے شعبے میں 1.6 فیصد جبکہ بجلی کی پیداوار میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ کیپٹل گڈز کی پیداوار میں 8.2 فیصد، انفراسٹرکچر سے متعلقہ اشیا کی پیداوار میں 6.6 فیصد جبکہ کنزیومر ڈیریبل میں 3.8 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


