شام کے عبوری صدر احمد الشرع
شام کے صدر احمد الشرع نے ایک عبوری حکومت کا اعلان کرتے ہوئے نئی وسیع اور متنوع کابینہ میں 23 وزراء کا تقرر کیا ہے۔ ہفتے کے روز اعلان کردہ کابینہ میں ایک علوی یارب بدر کو ٹرانسپورٹ کی وزارت اور ڈروز کمیونٹی کے امجد بدر کو وزارت زراعت کا قلم دان دیا گیا ہے۔ اس موقع پر احمد الشرع نے کہا ’’آج نئی حکومت کی تشکیل ایک نئی ریاست کی تعمیر کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کا اعلان ہے۔‘‘ اعلان کے مطابق اس عبوری حکومت کا کوئی وزیر اعظم نہیں ہوگا اور توقع ہے کہ احمد الشرع ہی کابینہ کی قیادت کریں گے۔
کیا ہے کابینہ میں توسیع کا مقصد؟
الجزیرہ کی خبر کے مطابق احمد الشرع نے نئی کابینہ کی تشکیل کے ساتھ شامیوں اور دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ شام کی نئی حکومت میں تمام لوگوں کی نمائندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کابینہ میں شام کی مذہبی اقلیتوں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے عیسائی لیڈر ہند کبوت کو بھی وزارت دی گئی ہے۔ ہن کو سماجی امور اور محنت کا وزیر بنایا گیا ہے اور یہ احمد الشرع کی جانب سے کابینہ کا حصہ بنائی جانے والی پہلی خاتون ہیں۔ واضح رہے کہ شام کے نئے حکمرانوں پر مغربی اور عرب ممالک کی جانب سے ایک ایسی حکومت بنانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو ملک کی متنوع نسلی اور مذہبی برادریوں پر مشتمل ہو۔ یہ دباؤ اس ماہ شام کے مغربی ساحل کے ساتھ تشدد میں سیکڑوں علوی شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد بڑھ گیا۔
انتخابات کرانے میں لگ سکتے پانچ سال: احمد الشرع
بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد احمد الشرع کے تحت ایک نگراں کابینہ شام پر حکومت کر رہی ہے۔ جنوری میں احمد الشرع کو عبوری صدر نامزد کیا گیا تھا۔ تبھی انھوں نے ایک جامع عبوری حکومت بنانے کا عہد کیا تھا جو شام کے تباہ شدہ عوامی ادروں کی تعمیر کرنے کے ساتھ آئندہ انتخابات تک ملک کے انتظامی امور سنبھالے گی۔ واضح رہے کہ احمد الشرع کے مطابق انتخابات کے انعقاد میں پانچ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں شام نے ایک آئینی اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جو عبوری حکومت کے دور تک نافذ رہے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

