مہرنگ بلوچ
کراچی: بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے سربراہ مہرنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ کراچی میں بی وائی سی نے ’ریاستی بربریت اور جبری گمشدگیوں‘ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مہرنگ بلوچ نے جبری گمشدگیوں کے لواحقین کی غیر قانونی گرفتاری اور غیر قانونی پولیس ریمانڈ کے خلاف احتجاجی دھرنے کی قیادت کی تھی۔ مہرنگ بلوچ اور کئی دیگر کارکنوں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
اس دوران، پولیس کی کارروائی میں، پیر کے روز بی وائی سی کے رہنما سمیع دین بلوچ سمیت متعدد افراد کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔
پاکستان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سید اسد رضا نے کہا، ’’پولیس نے اجتماع کو ناکام بنایا اور سمیع دین بلوچ سمیت چھ کے قریب مظاہرین کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور خواتین کے تھانے میں بند کر دیا گیا ہے۔
ملک کے معروف اخبار ’ڈان‘ سے بات کرتے ہوئے، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے سینئر عہدیدار قاضی خضر نے کہا کہ بی وائی سی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے مہرنگ اور دیگر کی حراست اور بلوچستان میں کارکنوں پر کارروائی کے خلاف ’پرامن‘ احتجاج کی کال دی تھی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے رہنما کے مطابق، ’’پولیس نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے وحشیانہ طریقے اپنایا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ 13 خواتین کو لے جایا گیا، لیکن مردوں کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔ خضر خود بھی احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔
خضر نے دعویٰ کیا کہ پاکستان علماء کونسل اور دیگر گروپوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے متعدد افراد نے پولیس کی حفاظت میں بلوچ کارکنوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ وہ بینر اٹھائے ہوئے تھے اور بی وائی سی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، لیکن پولیس انہیں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے سے نہیں روک رہی تھی۔
مہرنگ بلوچ کو حراست کے 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں مظاہرے جاری رہے، کچھ معاملات میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


