بایوٹیک انڈسٹری کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی بایو اکانومی اگلے پانچ سالوں میں 300 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ 2024 کے 165.7 بلین ڈالر سے تقریباً دوگنا ہو گی۔ بایوٹیکنالوجی سے چلنے والی معیشت میں گزشتہ 10 سالوں میں 16 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2014 میں 10 بلین ڈالر سے نہایت متاثر کن ترقی کرتے ہوئے یہ 2024 میں 165.7 بلین تک جا پہنچی ہے۔ اس شعبے کی ترقی میں مہاراشٹر اور کرناٹک کا کردار سب سے بڑا ہے۔
ایسوسی ایشن آف بایوٹیکنالوجی لیڈ انٹرپرائزز (ABLE) کے ذریعے تیار کردہ انڈیا بایواکانومی رپورٹ کے مطابق مجموعی جی ڈی پی کا 4.25 فیصد کا حصہ اس شعبے سے آتا ہے اور اس نے گذشتہ چار سالوں میں 17.9 فیصد کی کمپاؤنڈ سالانہ ترقی کی شرح درج کی ہے، جو کہ امریکہ اور چین کی طرح ایک عالمی بایوٹیک پاور ہاؤس کے طور پر ہندوستان کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بایوٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری راجیش گوکھلے نے کہا ہے کہ ’’یہ تو صرف شروعات ہے۔ ہندوستان کی بایو اکانومی اگلی دہائی میں جی ڈی پی میں 10-12% تک شراکت کے لیے ترقی کر سکتی ہے، جو ممکنہ طور پر ہندوستان کو بایو ٹیکنالوجی کی اعلیٰ معیشتوں کی صف میں شامل کر سکتی ہے۔‘‘
مرکزی وزیر برائے سائنس جتیندر سنگھ نے بھی جاری کی ہے ایک رپورٹ
21 مارچ کو مرکزی وزیر برائے سائنس جتیندر سنگھ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2027 تک ہندوستان کی بایو اکانومی مارکیٹ200 بلین ڈالر سے آگے بڑھنے اور 2030 تک 300 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ مالی سال 2026 کے بعد ترقی کی شرح 10 فیصد سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ وہیں مالی سال 2023 میں ہی 150 بلین ڈالر کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اے بی ایل ای کے صدر جی ایس کرشنن نے کہا ہے کہ ’’رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ایک اہم سنگ میل ہندوستان کے بایو اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی نمو ہے، جس نے اب 10,075 اسٹارٹ اپ کو عبور کر لیا ہے، جو ملک کے متحرک اختراعی منظر نامے کو ظاہر کرتا ہے۔ پچھلے نو سالوں میں اسٹارٹ اپس کی تعداد میں تقریباً دس گنا اضافہ ہوا ہے۔‘‘
اس سمت میں ترقی کے دو سب سے بڑے شعبے بایو میڈیکل اور بایو انڈسٹریل سیکٹر ہوں گے جو 2030 تک بالترتیب 128 بلین ڈالر اور 121 بلین ڈالر تک بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے بعد بایو سروسز ($42.2 بلین) اور بایو ایگریکلچر ($39.3 بلین) نمایاں ہوں گے۔ یہ رپورٹ مرکزی کابینہ کی جانب سے Bio-E3 پالیسی، یعنی بایو ٹیکنالوجی فار اکانومی، ایمپلائمنٹ اور نوائرمنٹ، کی منظوری کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ یہ پالیسی ٹیکنالوجی سے چلنے والے شعبوں کے لیے ہنر اور افرادی قوت پیدا کرنے کے علاوہ بایو مینوفیکچرنگ سرگرمیوں اور بایو فاؤنڈریز کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ وہیں اس میدان میں مہاراشٹر اور کرناٹک دو اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستیں ہیں جن کی بایو اکانومی بالترتیب 35.5 بلین ڈالر اور 32.7 بلین ڈالر ہے۔ ان کے بعد تلنگانہ (تقریباً 20 بلین ڈالر)، گجرات (13 بلین ڈالر) اور آندھرا پردیش (11 بلین ڈالر) سر فہرست ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


