جماعت اسلامی ہند نے ہند-پاک جنگ سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔
بلوچستان کے علاقے میں ٹرین ہائی جیکنگ سمیت اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے بعد جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے، پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان ہمارے ملک میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہندوستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے بالکل واضح ہے۔ ان کے ملک سے اسپانسر شدہ عالمی قتل عام کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔
شفقت علی خان نے کہا کہ ’’ہندوستان کا اس میں ملوث ہونا واضح ہے۔ وہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ صرف پاکستان ہی نہیں، وہ (ہندوستان) پورے خطے، تمام جنوبی ایشیائی ممالک کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ شفقت علی نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں بھارت کا ملوث ہونا اور بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے میں ہندوستان کا کردار ہمارے لیے بالکل واضح ہے۔ وہیں مسئلہ کشمیر کو دوبارہ اٹھاتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔’’تاہم، جموں و کشمیر کے تنازع کا پرامن حل، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق، جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ہندوستان کو اپنے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانے کے یہ پاکستانی بیانات بلوچستان لبریشن آرمی کی جان بسے جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کے بعد سامنے آئے ہیں۔ 24 گھنٹے سے زیادہ وقت کے بعد پاکستانی فوج نے بی ایل اے کے 33 دہشت گردوں کو ختم کر کے تمام مغویوں کو بازیاب کرالیا۔ اس کے ایک دن بعد پاکستان کے خیبر پختونخواہ میں مسجد میں ایک زور دار بم دھماکہ ہوا، جس میں ایک بزرگ عالم اور تین دیگر زخمی ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بم مسجد کے منبر میں نصب کیا گیا تھا۔اس پر کہ پاکستان اپنی سرزمین پر حملوں کا الزام ہندوستان پر کیوں لگا رہا ہے؟ شفقت علی خان نے کہا کہ ہندوستان نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی کبھی مذمت نہیں کی۔
واضح رہے کہ یہ پاکستان کی جانب سے پہلی مرتبہ نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی پاکستان نے ایسے ہی بےبنیاد تبصرے کیے ہیں، جن پر ہندوستان نے سخت جواب بھی دیے ہیں۔ اس دوران وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ’’پوری دنیا جانتی ہے کہ عالمی دہشت گردی کا مرکز کہاں ہے، پاکستان کو دوسروں پر انگلی اٹھانے اور اپنے اندرونی مسائل اور ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


