کب ختم ہوگا مانسون! محکمہ موسمیات نے بتائی تاریخ
چنئی: جنوبی تمل ناڈو کے علاقوں میں ان دنوں شدید بارش سے لوگ پریشان ہیں۔ اس دوران کنیا کماری ضلع میں ڈیموں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ بھی کسی بھی ممکنہ ریسکیو آپریشن کے لیے تیار ہے۔
کنیا کماری کے ضلع فائر آفیسر ستیہ کمار نے آئی اے این ایس کو بتایا، “محکمہ سیلاب کی صورت میں کسی بھی ریسکیو آپریشن کے لیے تیار ہے۔” ستیہ کمار نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آبی ذخائر کے قریب نہ جائیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بجلی خراب ہونے کی صورت میں بھی الرٹ رہنے کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بجلی کی خرابی کے بارے میں فوری طور پر مقامی بجلی کے دفتر کو مطلع کریں اور فائر اینڈ ریسکیو سروسز کو بھی آگاہ کریں۔
کنیا کماری ضلع میں نو ڈیموں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اگر ان ڈیموں میں پانی کا بہاؤ بڑھتا ہے تو کچھ ڈیموں کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ محکمہ موسمیات نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ موسم کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے محکمہ کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ ویردھو نگر ضلع کے کوولنکولم میں 8 سینٹی میٹر، تروپور ضلع کے ادوملاپٹائی میں 6 سینٹی میٹر اور کلانیلائی (پڈوکوٹائی) اور تھانگاچیمادم (رامناتھ پورم) میں 5 سینٹی میٹر کی بھاری بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ، اس سال جنوب مغربی مانسون کے 31 مئی کو کیرالہ میں پہنچنے کا امکان ہے۔
تمل ناڈوکے 26 اضلاع میں موسلادھار بارش کا انتباہ
اس کے علاوہ، ریونیو ایڈمنسٹریشن کمشنر نے 26 اضلاع بشمول کنیا کماری اور ویردھونگر کو انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ موسلادھار بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ چنئی کے محکمہ موسمیات نے 19 تاریخ تک تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل کے بیشتر حصوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، اسی طرح کی صورتحال 21 مئی تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ طوفان کی وارننگ کے پیش نظر ماہی گیروں کو کچھ ساحلی علاقوں میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

