Bharat Express DD Free Dish

VVPAT

بہار اسمبلی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے سے شروع ہو  جائے گی۔ سب سے پہلے پوسٹل بیلٹ کی گنتی کی جائے گی، اس کے ٹھیک آدھے گھنٹے بعد صبح 8 بج کر 30 منٹ سے ای وی ایم کے ووٹوں کی گنتی شروع کر دی جائے گی۔ بہار اسمبلی کی تمام 243 نشستوں کے تقریباً 5 کروڑ ووٹوں کی گنتی 4372 کاؤنٹنگ ٹیبلز پر کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی اور اُس کے ساتھی جمہوریت پر نہیں بلکہ لوٹ تنتر (لوٹ کے نظام)  پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے آزادی سے پہلے سے لے کر آج تک ہمیشہ پچھلے دروازے کی سیاست اور خفیہ کاری کا کام کیا ہے۔

بہار اسمبلی الیکشن کے درمیان سمستی پورسے بڑی خبر آئی ہے۔ سرائے رنجن اسمبلی حلقہ کے شیتل پٹی گاؤں کے پاس ہزاروں وی وی پیٹ پرچیاں کوڑے میں پھینکی ملیں۔ آرجے ڈی نے اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پرشیئرکرکے الیکشن کمیشن پرسوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ جہوریت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ یہ حادثہ 6 نومبرکو ہوئی ووٹنگ کے دودن بعد سامنے آئی ہے۔

سپریم کورٹ میں وی وی پی اے ٹی سے جاری کردہ سلپس کے 100 فیصد میچنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک نظرثانی درخواست دائر کی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ انڈی اتحاد کے ہر لیڈر نے ای وی ایم کو لے کر عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرنے کا گناہ کیا ہے، لیکن آج ملک کی جمہوریت اور بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کی مضبوطی کو دیکھیں، آج سپریم کورٹ نے بیلٹ بکس لوٹنے کی نیت  والے لوگوں کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے زبردست جھٹکا دیا ہے۔

VVPAT ایک آزاد ووٹ کی تصدیق کا نظام ہے۔ اس کے ذریعے ووٹر جان سکتے ہیں کہ آیا ان کا ووٹ اسی شخص کو گیا ہے جس کو انہوں نے ووٹ دیا ہے یا نہیں۔

جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس دتہ کی بنچ نے کہا، "ہم انتخابات کو کنٹرول نہیں کر سکتے، ہم کسی اور آئینی اتھارٹی کے کام کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ ایلکشن کمیشن آف انڈیا نے شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے میں 18 اپریل کو سماعت مکمل کی تھی، لیکن ججوں نے کچھ اور پہلوؤں پر وضاحت کی ضرورت محسوس کی۔ عرضیوں میں تمام VVPAT سلپس کو شمار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جسٹس سنجیو کھنہ اور دیپانکر دتہ کی بنچ نے کہا، "یہ (ایک) انتخابی عمل ہے، اس میں تقدس ہونا چاہیے۔ کسی کو یہ خدشہ نہیں ہونا چاہیے کہ جس کی توقع کی جا رہی ہے وہ نہیں ہو رہا ہے۔"

پرشانت بھوشن نے جب جرمنی کے نظام کی مثال دی تو جسٹس دیپانکر دتہ نے کہا - 'میری آبائی ریاست مغربی بنگال کی آبادی جرمنی سے زیادہ ہے۔ ہمیں کس پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اس طرح سسٹم کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔