Bharat Express DD Free Dish

Vijay Hazare Trophy

کرکٹ میں فارم اور قسمت ہمیشہ ساتھ نہیں چلتے، مگر جب فارم مسلسل بولتا رہے تو سوالات خود بخود کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وجے ہزارے ٹرافی میں مہاراشٹر کے کپتان رتو راج گائیگواڈ نے ایک بار پھر اپنی کلاس ثابت کرتے ہوئے ناقابلِ شکست 134 رنز کی شاندار اننگز کھیلی ہے۔ بھارتی ون ڈے ٹیم سے باہر ہونے کے باوجود ان کی یہ سنچری نہ صرف ان کے حوصلے کی علامت بنی بلکہ سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر بھی بحث چھیڑ گئی ہے۔

اننگز کے 39ویں اوور میں ہاردک پانڈیا نے طوفانی بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ اس وقت وہ 62 گیندوں پر 66 رنز بنا کر کھیل رہے تھے۔ سامنے بائیں ہاتھ کے اسپنر پارتھ ریکھڑے تھے۔ ہاردک نے اس اوور کی ابتدائی پانچ گیندوں پر پانچ چھکے جڑ دیے اور آخری گیند پر چوکا لگا کر اپنی سنچری مکمل کی۔ یوں انہوں نے صرف چھ گیندوں میں 34 رنز بنا کر سنچری کا سنگ میل عبور کیا۔

سمستی پور کے ویبھو سوریہ ونشی نے اروناچل پردیش کے خلاف محض 84 گیندوں میں 190 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر کرکٹ کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ وہ 15 برس کی عمر سے پہلے لسٹ-اے اور ٹی20 دونوں فارمیٹس میں سنچری بنانے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

واضح رہے کہ وراٹ کوہلی نے اس سے قبل 11-2010 سیزن میں وجے ہزارے ٹرافی کھیلی تھی، جہاں وہ دہلی کے کپتان بھی رہے۔ اس کے بعد ایک طویل وقفے کے بعد اس ٹورنامنٹ میں ان کی واپسی نے شائقین کرکٹ کو ایک یادگار اننگز دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔

کوہلی نے اس سے قبل 2010-11 سیزن میں وجے ہجارے ٹرافی میں حصہ لیا تھا، جہاں وہ دہلی کی کپتانی کر رہے تھے۔ وہ 2013-14 میں این کے پی سالوے چیلنجر ٹرافی میں بھی کھیل چکے ہیں، لیکن اس واپسی سے پہلے تقریباً ایک دہائی تک وجے ہجارے میں حصہ نہیں لیا تھا۔