Bharat Express DD Free Dish

Venezuela Crisis

وینزویلا میں امریکی کارروائی، صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور وہاں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال پر بھارت نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ پیش رفت تشویشناک ہے اور اس نازک وقت میں تمام متعلقہ فریقوں کو بات چیت کے ذریعے ایسا حل تلاش کرنا چاہیے جو وینزویلا کے عوام کی سلامتی اور بھلائی کو یقینی بنا سکے۔

واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ روس نے وینزویلا کے ساحل کے قریب اپنے ایک پرانے تیل بردار جہاز کی حفاظت کے لیے آبدوز اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہی تیل ٹینکر اب امریکہ اور روس کے درمیان نئے تنازع اور سفارتی تناؤ کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے احکامات پر ہونے والے اس آپریشن کو محض تیل کے مفادات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے وجوہات کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا پہلے ہی شدید سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ ہفتے کے روز امریکی فوج کی ایک کارروائی میں صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیلسی روڈریگیز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات مزید جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار ان کی توجہ کسی مخالف ریاست پر نہیں بلکہ امریکہ کے ایک پرانے اتحادی اور نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار خطے گرین لینڈ پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکہ دونوں میں سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی کے بعد عالمی سیاست میں واضح دراڑ نظر آ رہی ہے اور دنیا دو بڑے خیموں میں بٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے ممالک بھی ہیں جو کھل کر امریکہ کے موقف اور کارروائی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی پر عالمی سطح پر ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے امریکی اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک خود مختار ملک کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس سے عالمی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان میں واضح تضاد بھی نظر آیا۔ دراصل اس سے ایک دن قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ڈیلسی روڈریگز سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ امریکہ کی شرائط پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی جانب سے کی گئی حالیہ فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خطرناک اور جارحانہ اقدام قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کو مجروح کرتا ہے۔

لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں جاری شدید سیاسی ہلچل اور عدم استحکام کے درمیان بھارت نے پہلی مرتبہ اپنا سرکاری ردِعمل سامنے رکھا ہے۔ وینزویلا میں گزشتہ چند دنوں سے جاری احتجاجی مظاہروں اور کشیدہ حالات پر بھارت نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ وہاں بدلتی …