Bharat Express DD Free Dish

UPI

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قدر کے لحاظ سے ڈیجیٹل لین دین میں سال بھر میں 17.3 فیصد اضافہ ہوا، جس میں ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ (RTGS) ٹرانزیکشنز کا بڑا حصہ ہے۔

یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) نے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ماحولیاتی نظام میں اپنا تسلط برقرار رکھا ہے جو کہ FY25 میں لین دین کے کل حجم کا 83.7% ہے۔

’’جامع ماڈیولر سروے: ٹیلی کام 2025‘‘ کے عنوان سے شائع رپورٹ میں یہ بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ تقریباً 86.3% گھرانوں کو اپنے گھروں میں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔

سوجیت نائر نے کارنیگی گلوبل ٹیکنالوجی سمٹ کے موقع پر اے این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ڈی پی آئی لوگوں اور چھوٹے کاروباروں کو رسمی معیشت سے جوڑنے میں مدد کر رہا ہے۔

UPI پر مبنی لین دین مارچ میں ریکارڈ 24.77 لاکھ کروڑ روپے رہا، جو فروری میں 21.96 لاکھ کروڑ روپے سے 12.79 فیصد زیادہ ہے۔ مارچ میں 24.77 لاکھ کروڑ روپے کے ریکارڈ توڑ UPI لین دین میں سال بہ سال قیمت میں 25 فیصد اور والیوم میں 36 فیصد کی متاثر کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

2H 2024 میں کارڈ کے ٹرانزیکشن کا حجم 410 کروڑ تھا، جو 2H 2023 کے مقابلے میں 11فیصد زیادہ ہے۔ 2H 2024 میں ڈیبٹ کارڈ کی ٹرانزیکشن صرف 82 کروڑ رہی، جو کہ سال بہ سال 29فیصد کی کمی ہے۔ لیکن کریڈٹ کارڈ کا ٹرانزیکشن سال بہ سال 36 فیصد بڑھ کر 242 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

این پی سی آئی نے کہا ہے کہ یو پی آئی کے ذریعے لین دین مارچ میں 24.77 لاکھ کروڑ تک جا پہنچا ہے، جو کہ گزشتہ سال مارچ میں 19.78 لاکھ کروڑ روپے تھا۔

مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے ہندوستان کی ترقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 2047 تک بھارت کا ’’وِکسِت بھارت‘‘ بننے ہدف پورا ہو گیا، تو یہ نہ صرف اس ملک کو بدل دے گا بلکہ پوری دنیا پر اس کے مثبت اثرات قائم ہوں گے۔

0.15 فیصد فی ٹرانزیکشن (2,000 روپے تک کے لین دین کے لیے) کی ترغیب چھوٹے تاجروں کو فراہم کی جائے گی، جس سے انہیں ٹرانزیکشن فیس کی فکر کیے بغیر ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے میں مدد ملے گی۔

وزارت خزانہ کے مطابق، حصہ لینے والے بینکوں اور فنٹیک پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے ساتھ استعمال میں آسانی نے UPI کو ملک بھر کے لاکھوں یوزرس کے لیے حقیقی وقت کی ادائیگی کا ترجیحی موڈ بنا دیا ہے۔