Bharat Express DD Free Dish

Tel Aviv

ایران نے اب تک اسرائیل پر سب سے بڑے میزائل حملے میں 500 سے زائد میزائل داغے ہیں۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) کے مطابق صرف 24 مارچ کی رات میں ہی 220 میزائل ایک ساتھ داغے گئے جو اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگان ایران میں ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے ایئر بورن فورسز کی تعیناتی پر غور کر رہا ہے، جس میں تقریباً 3,000 فوجیوں کی برگیڈ شامل ہے، جو 18 گھنٹوں میں دنیا کے کسی بھی حصے میں بھیجی جا سکتی ہے۔

سفارت خانے نے یقین دہانی کرائی کہ بدلتی صورتحال کے دوران بھارتی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ کسی بھی ہنگامی حالت میں شہری 24 گھنٹے ہیلپ لائن +972-54-7520711 پر رابطہ کر سکتے ہیں یا ای میل کے ذریعے سفارت خانے سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اور کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات نے حالیہ برسوں میں نمایاں ترقی اور تحرک دیکھا ہے۔ اپنے دو روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم مودی اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب بھی کریں گے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پُرامن مظاہروں کو شرپسند عناصر نے تشدد میں بدل دیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے بدامنی کے سلسلے میں تقریباً 3,000 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ایران کے ایک میزائل نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں امریکی سفارت خانہ کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کے ایک حصے کو نقصان ہوا۔ امریکی سفیر نے تصدیق کی ہے کہ سفارت خانہ کو نقصان ہوا ہے، لیکن سبھی اہلکار محفوظ ہیں۔ ایران کے اس حملے نے مشرق وسطیٰ کے اس جنگ کو مزید تیز کردیا ہے۔

آگ بدھ کے روز دوپہر کے قریب بھڑک اٹھی اور گرم، خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باعث شعلوں نے دیودار کے جنگل کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بیت المقدس کی فضا دھوئیں سے خاکستر ہو گئی اور احتیاطاً کئی کمیونٹیز کو خالی کروا لیا گیا۔

آگ پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث اسرائیلی وزیر خارجہ نے یونان، اٹلی، بلغاریہ، کروشیا اور قبرص سے امداد کی اپیل کی ہے۔وزیر دفاع اسرائیل نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا ملک میں قومی سطح پر ہنگامی حالت جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔

اسرائیل کے سرکاری کان ٹی وی نیوز نے بتایا کہ میزائل بن گوریون ہوائی اڈے سے تقریباً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر کفر ڈینیئل میں گرا۔ میزائل گرنے سے اس علاقے میں آگ لگ گئی۔

نو ماہ کی جنگ کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں یرغمالیوں کے معاہدے کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے اور حکام نے امید کا اظہار کیا ہے لیکن کہا ہے کہ فریقین کے درمیان خلا باقی ہے۔