Bharat Express DD Free Dish

State Funeral

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کے مطابق دانِش چوراہے سے روضۂ امام رضا تک غیر معمولی ہجوم کے باعث آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو فضائی راستے سے مزار تک منتقل کیا گیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے جنازے کے جلوس کے مناظر نشر کیے، جن میں سڑکوں کے دونوں جانب بڑی تعداد میں سوگوار سابق ایرانی رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرتے دکھائی دیے۔

نگل کی شب نجف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور آیت اللہ خامنہ ای کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ حسینی خامنہ ای نے جسدِ خاکی وصول کیا، جس کے بعد جنازے کا جلوس نجف میں داخل ہوا۔ عراقی حکومت نے ان جنازہ تقریبات کے موقع پر بدھ کو عام تعطیل کا اعلان کیا۔ ایرانی پرچم میں لپٹے تابوت کو نجف کی سڑکوں سے گزارا گیا، جہاں ہزاروں افراد جلوس میں شریک ہوئے۔

عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت اور عوام جنازے میں شرکت کو اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مرحوم رہنما کو عالم اسلام کی ایک مؤثر شخصیت قرار دیتے ہوئے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تقریب میں آٹھ سربراہانِ مملکت یا حکومت، بارہ ممالک کے پارلیمانی سربراہان اور متعدد وزرائے خارجہ و خصوصی ایلچی شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے۔ ایرانی فوجی قیادت نے بھی بیرونی قوتوں کو کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی ہے۔

بھارت کی جانب سے وزیرمملکت برائے امور خارجہ پبترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر سید عطاء حسنین سرکاری وفد میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید بھی تہران پہنچنے والے نمایاں بھارتیوں میں شامل ہیں۔ تقریب میں جارجیا، عراق، تاجکستان، روس، چین، عمان، لبنان اور فلسطین سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود بھی شریک ہوئے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی سے ہوگا۔ 7 جولائی کو قُم میں خصوصی تقریب منعقد ہوگی، جبکہ 9 جولائی کو ان کے آبائی اور مقدس شہر مشہد میں تدفین کے ساتھ یہ سلسلہ اختتام پذیر ہوگا۔

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔