Bharat Express DD Free Dish

Sourav Das

سی جے پی لیڈر سورو داس اور آشوتوش رانکا نے اپنی عدالتی حراست کے خلاف دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ دونوں کے وکلا ہائی کورٹ سے اس معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کر رہے ہیں۔ ایک خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے گزشتہ روز داس اور رانکا کی حراست میں 21 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔ اس سے پہلے آشوتوش رانکا اور سورو داس کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔

دہلی پولیس نے دونوں لیڈروں کی عدالتی حراست میں مزید پانچ دن کی توسیع کی درخواست دی تھی، تاہم خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی عدالت نے حراست میں صرف دو دن کی توسیع کی منظوری دی۔ دونوں کو 13 اکتوبر کو جنتر منتر کے علاقے میں مبینہ طور پر بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔

دہلی پولیس نے جنتر منتر کے علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے لیڈر سورو داس، آشوتوش رانکا اور دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس کے ایک ذرائع کے مطابق، ایف آئی آر میں رانکا اور داس کی جانب سے پہلے جمع کرائے گئے امن برقرار رکھنے کے بانڈ کی خلاف ورزی سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

ابھیجیت دیپکے نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے اور وہ وہاں اس وقت تک ترنگا لہراتے رہیں گے، جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دے دیتے۔

سی جے پی کے لیڈر ابھجیت دیپکے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا خوف اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کو لگتا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام نہ رہنے دینے سے مظاہرے بند ہو جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہونے والا۔ابھجیت دیپکے نے آشوتوش رانکا کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ جنتر منتر پر ترنگا لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج سے پہلے یوٹیوبر دھرو راٹھی کو گروگرام کے سیکٹر 56 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا۔ پولیس ذرائع نے یہ اطلاع دی۔ دھرو راٹھی کے علاوہ سی جے پی کی قانونی ٹیم کی سربراہ رتنا سنگھ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ دونوں احتجاج میں شامل ہونے کے لیے پہنچے تھے۔مجوزہ احتجاج کے پیش نظر پوری قومی راجدھانی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ستیّہ نکیتن حادثے پر سوال اٹھاتے ہوئے سورَو داس نے کہا کہ کونسلر سے لے کر وزیر اعظم تک بی جے پی کے لوگ ہیں، پھر بچے کیسے مر رہے ہیں؟ چھتیں کیسے گر رہی ہیں اور آگ کے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟

سوربھ داس نے اپنی تنقید کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں موجود کئی ارکانِ پارلیمنٹ کے خلاف سنگین فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان کے مطابق قتل، عصمت دری اور ڈکیتی جیسے مقدمات کا سامنا کرنے والے عوامی نمائندے بھی پارلیمنٹ میں موجود ہیں، لیکن ان کے خلاف اس شدت سے کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ چند نازیبا الفاظ بولنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کے معاملے میں پولیس مختلف ویڈیوز کی جانچ کر رہی ہے