Bharat Express DD Free Dish

SDRF

اطلاعات کے مطابق 30 جولائی کی رات عمارت میں معمولی جھکاؤ محسوس کیا گیا تھا۔ یہ دیکھتے ہی وہاں مرمت کا کام کر رہے متعدد مزدور باہر نکل آئے۔ چونکہ عمارت میں مرمتی کام چل رہا تھا، اس لیے حادثے کے وقت زیادہ تر افراد عمارت سے باہر موجود تھے۔

حکام کو خدشہ ہے کہ حادثے کے وقت مزید مزدور اندر موجود ہو سکتے تھے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، رپورٹ لکھے جانے تک دو افراد لاپتہ تھے۔

میٹنگ میں وزیر اعظم کے ساتھ تقریباً 22 آفت متاثرین اور 57  آپدا ویر شریک ہیں۔ وزیر اعظم مودی اس کے بعد اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں بھی اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس کریں گے۔ پی ایم مودی ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کے ذریعے آفت زدہ علاقوں کا دورہ کرنے والے تھے، لیکن موسم کی وجہ سے یہ پروگرام تبدیل ہو گیا۔ اب وہ بعد میں دہلی روانہ ہوں گے۔

ندیوں میں پانی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے انتظامیہ نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ندی کے کناروں پر رہنے والے لوگوں سے ہوشیار رہنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

حکام نے بتایا کہ گاڑی میں پھنسی تمام لاشوں کو نکال لیا گیا ہے۔ ایس ڈی آر ایف کے ایک اہلکار نے بتایا، ’’گاڑی کو نکال لیا گیا ہے۔ اس میں کئی گھنٹے لگے۔ لاشوں کو بھی نکال لیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ حادثہ کیسے ہوا۔‘‘

یہ واقعہ آج صبح اس وقت پیش آیا جب جھانجرا علاقے میں ایک خالی پلاٹ میں کلورین کا اخراج ہوا۔ یہ گیس پلاٹ میں رکھے سلنڈروں سے خارج ہوئی ۔جس کے بعد لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی۔

ذرائع کے مطابق لکھنؤ میں بنائی جا رہی ملٹی لیول پارکنگ میں  حادثہ کے بعدافراتفری مچ گئی۔ رات گئے جب زمین دھنسنے لگی اور اس کی دیوار گرنے سے مزدوروں کی بنائی ہوئی کچھ عارضی جھونپڑیاں گر گئیں۔

فڑنویس نے ہفتہ کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ​​ٹویٹر) پر لکھا کہ وہ شہر میں بارش کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

چیف سکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے سول انتظامیہ اور پولیس کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی تاکہ آئندہ امرناتھ یاترا 2023 کے انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے تاکہ یاترا کے پرامن انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد یہ اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی ۔ پولیس انتظامیہ نے بھی تیاریوں اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔