Bharat Express DD Free Dish

sanatan dharma

سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ ان دنوں اپنی پیدل یاترا کو لے کر سرخیوں میں ہیں۔ یہ یاترا تقریباً 900 کلومیٹر طویل بتائی جا رہی ہے۔ دسہرے کے موقع پر انہوں نے اجین میں بابا مہاکال کی سرزمین سے ایودھیا کے لیے پیدل یاترا شروع کیا۔ انہوں نے اس مہم کا نام ’ستیہ سناتن سوابھیمان یاترا‘ رکھا ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو بتانا چاہیے کہ اگر کسی معاملے میں عدالتی کارروائی آگے بڑھ سکتی تھی تو جلد بازی میں ایسی کارروائی کیوں کی گئی۔ انہوں نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ کسی بھی معاملے کو سیاسی دباؤ یا چمک دمک کے اثر میں توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

اننت امبانی نے اتوار کے روز ترو مالا واقع شری وینکٹیشور سوامی مندر میں حاضری دے کر پوجا ادا کی۔ روایتی لباس میں ملبوس اننت امبانی نے مندر کی مذہبی رسومات میں شرکت کی اور عقیدت کے اظہار کے طور پر مندر میں اپنے بال بھی نذر کیے۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ برہمن طبقے کا بنیادی کردار روایات کی حفاظت، سناتن دھرم کے فروغ، سماجی اتحاد برقرار رکھنے اور دیوی دیوتاؤں کے احترام کا تحفظ کرنا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں ذات پات نہیں بلکہ سناتن اور سماج کی یکجہتی سب سے زیادہ ضروری ہے۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ ڈیفنس کوریڈور نے ریاست کی شناخت بدل دی ہے۔ جس ریاست کو کبھی کٹے کے لیے جانا جاتا تھا، آج وہاں میزائل اور آٹومیٹک رائفلیں تیار کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ مہاکمبھ میں 66 کروڑ افراد نے شرکت کر کے سناتن کی طاقت کا مظاہرہ کیا، جو اپنے آپ میں ایک منفرد واقعہ تھا۔

مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ایک لڑکی نے اپنے بچپن کے پیار پانے کا نام دے کر سناتن دھرم اپنایا ہے اورپھر اپنے عاشق کے ساتھ سات پھیرے لئے۔ لڑکی نے اپنا نام سفینہ سے بدل کر سمرن کرلیا۔

بابا رام دیو نے ورنداون میں منعقدہ تقریب کے دوران 'شربت جہاد' پر پھر متنازعہ بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن روح افزا والوں نے اسے 'شربت جہاد' مان لیا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ یہ جہاد کررہے ہیں۔ 

پون کلیان کی پارٹی جناسینا آندھرا پردیش میں حکمراں این ڈی اے اتحاد کا حصہ ہے۔ ایسے میں ہفتہ کو انہوں نے اپنی پارٹی جناسینا کے نئے ونگ کے قیام کا اعلان کیا۔

گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن کے بیٹے ادے ندھی اسٹالن نے سناتن دھرم کا موازنہ ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں سے کیا تھا۔

جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سچن دتہ کی بنچ نے تبصرہ کیا، "آپ نے اظہار رائے کی آزادی کا غلط استعمال کیا اور اب آپ سپریم کورٹ سے ریلیف مانگ رہے ہیں۔ آپ عام آدمی نہیں، آپ ایک سیاست دان ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔