Bharat Express DD Free Dish

Saif Ali Khan Attack

کرینہ کپور کا کہنا تھا کہ ’سیف نے حملہ آور کو بازوؤں سےپکڑا تھا، لیکن حملہ آور نے اس کی گردن، کمر اور ہاتھوں پر چاقو سے حملہ کیا‘۔

سیف علی خان کی بہن صبا  ان سے بہت پیار کرتی ہیں اور ہمیشہ اپنے بھائی اور خاندان کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں۔ سیف پر حملے کے بعد صبا نے اپنے بھائی اور خاندان کی خیریت کے لیے ’قرآن خوانی اور صدقہ‘ کیا۔

فقیر کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں لمبے بالوں والے ملزم کی تصویریں اس کے بیٹے کی عام شکل سے میل نہیں کھاتیں۔ فقیر نے کہا کہ سی سی ٹی وی میں جو دکھایا گیا ہے، میرا بیٹاکبھی اپنے بال لمبے نہیں رکھتا، مجھے لگتا ہے کہ میرے بیٹے کو پھنسایا جا جا رہا ہے۔

سیف کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق وہ حملے میں پانچ  بار  زخمی ہوئے ہیں۔  ان کی پیٹھ کے بائیں جانب 0.5سے 1 سینٹی میٹر چوٹ،  بائیں کلائی پر 5 سے 10 سینٹی میٹر  چوٹ،  گردن کے دائیں طرف 10 سے 15 سینٹی میٹر،  دائیں کندھے پر 3 سے 5 سینٹی میٹر  چوٹ دکھائی گئی ہے۔  اس کے علاوہ سیف کی کہنی پر 5 سینٹی میٹر کا زخم ہے۔  

سیف علی خان پر حملے کے معاملے پر مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اداکار کی سیکورٹی کے بارے میں بات کی ہے۔ انہوں نے کہا، 'ہم ملزمان کو نہیں چھوڑیں گے۔ ممبئی اور مہاراشٹر کو محفوظ رکھنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کو لیلاوتی اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ آج زخمی ہونے کے چھ دن بعد وہ اپنے گھر واپس آئے ہیں۔ سیف کو 15 جنوری کی رات چاقو کے حملے کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

سیف علی خان پر 16 جنوری کو ان کے گھر میں گھسنے والے نے چاقو سے حملہ کیا تھا۔ ملزم نے اداکار پر چھ بار حملہ کیا تھا۔ تب سے سیف ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل ہیں۔

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اتوار کو اداکار سیف علی خان پر حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم بنگلہ دیشی شہری ہے، اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ بالی ووڈ اسٹار کے گھر میں داخل ہو رہا ہے۔

اداکار سیف علی خان پر حملے کے حوالے سے ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ اس دوران اداکار اور سیاست دان شتروگھن سنہا نے بھی اس معاملے پر بیان دیا ہے۔

جمعرات کی صبح سیف پر ان کے باندرہ اپارٹمنٹ میں چاقو سے کئی بار حملہ کیا گیا تھا۔ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد انہیں لیلاوتی اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔