Bharat Express DD Free Dish

Prof Salim Engineer

امعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے احتجاج سے متعلق اپنے خدشات کا اعادہ کرتے ہوئے پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوری شرکت، تنقیدی فکراورقیادت کوفروغ دے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے ممتازعلمی ورثے کے ساتھ ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے، اسے چاہئے کہ لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق طلبہ کوجمہوری نمائندگی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے۔ ہم جامعہ انتظامیہ پرزوردیتے ہیں کہ وہ اپنی یقین دہانیوں کو واضح، ٹھوس اورمقررہ مدت کے اندرعمل میں لائے اورسیکورٹی اہلکاروں کے طرزِعمل کے حوالے سے جواب دہی کویقینی بنائے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے اپنے ایک بیان میں کہا کولکاتا میں ہونے والی افسوس ناک بھگدڑ کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع سے ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ ہماری دلی تعزیت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے اور ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ کسی عوامی اجتماع میں بے گناہ افراد کی جانوں کا جانا انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثے کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لیے جانے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے ووٹر بننا آسان بنایا جائے، مشکل نہیں۔ ووٹ دینے کا حق اسی وقت بامعنی ہوسکتا ہے جب شہری غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کراسکیں۔ الیکشن کمیشن ملک کے آئین اور عوام کا ادارہ ہے، کسی ایک عہدے دار کا ذاتی ادارہ نہیں ہے۔ شہریوں کو ان کے بنیادی حقِ رائے دہی سے محروم کرنا محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ملک اور اس کے عوام کے ساتھ سنگین غداری کے مترادف ہے۔

‎جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کرے، پولیس کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور طاقت کا بے جا استعمال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تعلیمی اصلاحات نافذ کرے جو امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ گھر کے اندر دو کمسن بچوں کا درد ناک قتل، مظاہروں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں نہایت افسوسناک ہیں۔ اس سے انتظامیہ کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ذمہ دار کوئی بھی ہو اس طرح کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔