Bharat Express DD Free Dish

Power Sector

اڈانی الیکٹریسٹی کی مختلف ٹیموں نے جدت، نظم و ضبط اور کام کی جگہ کے انتظام میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مقابلے میں شریک ٹیموں کا جائزہ غیر جانب داری، عمل درآمد کے طریقۂ کار، معیاری کاری، پریزنٹیشن کی مہارت، وقت کے مؤثر انتظام، تخلیقی صلاحیت، مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور حاصل ہونے والے فوائد سمیت متعدد معیارات کی بنیاد پر لیا گیا۔

کمپنی نے بتایا کہ بارش کے آغاز سے قبل بجلی کے نظام کا جامع معائنہ اور ضروری دیکھ بھال کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں نصب برقی آلات کو پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے اونچی جگہوں پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ ضروری سامان، ہنگامی گاڑیاں اور ڈیزل جنریٹرز بھی مختلف مقامات پر پہلے سے تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو۔

اڈانی گروپ نے ملک بھر میں ایک مکمل اے آئی ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے تقریباً 100 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔ اس سرمایہ کاری میں بجلی کی پیداوار، ٹرانسمیشن نیٹ ورک، ڈیجیٹل کنکٹیوٹی اور جدید ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف بھارت کی ڈیجیٹل صلاحیت کو بڑھائے گا بلکہ عالمی سطح پر اسے ایک اہم ٹیکنالوجی حب میں تبدیل کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اڈانی الیکٹرسٹی ممبئی نے 92.5 اسکور حاصل کر کے مسلسل دوسری بار سرفہرست پوزیشن برقرار رکھی۔ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او کندرپ پٹیل نے کہا کہ یہ کامیابی کمپنی کی مستقل مزاجی، نظم و ضبط اور صارفین کے اعتماد کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس سمٹ کا مقصد پاور اور انرجی سیکٹر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ خیالات کا تبادلہ ہو، تعاون بڑھے اور ترقی کے لیے مشترکہ سمت طے کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پائیدار ترقی کے ساتھ معاشی نمو کو آگے بڑھانے، عالمی روابط مضبوط کرنے اور 2047 تک ’’ترقی یافتہ بھارت‘‘ کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔

قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر ہے اور FY32 تک اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہوں گے

ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے مرکزی وزیر منوہر لال کھٹر نے لکھا کہ آج ہندوجا گروپ کے نمائندوں کے ساتھ ہم نے ہندوستان کے پاوس سیکٹر کو مزید مستحکم بنانے سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

حکومت نے قابل تجدید توانائی پر توجہ مرکوز کرکے ماحولیات کے تئیں اپنی وابستگی کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ 2015 میں، وزیراعظم مودی نے 2022 تک 175 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو نصب کرنے کے ہدف کا اعلان کیا۔