Bharat Express DD Free Dish

Power Change

راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ دکھایا ہے‘، جبکہ پرشانت بھوشن نے کہا کہ ’ہم سب اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ بھارت میں نوجوانوں کو احتجاج کے ذریعے یہ کر کے دکھانا ہوگا۔‘ بی جے پی کے حامی نیل کانت بخشی نے دونوں کے بیانات پر سوال اٹھائے ہیں۔

مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے اس بار اصل مقابلہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مانا جا رہا ہے۔ جہاں ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں، وہیں بی جے پی ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اب تمام نگاہیں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی کے بعد واضح ہوگا کہ آیا ایگزٹ پولس کے اندازے درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں اور مغربی بنگال میں اقتدار کس کے ہاتھ آتا ہے۔