Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

مدن داس جی کا ایک شاندار تعلیمی ریکارڈ تھا اور اس ریکارڈ نے ان کے کام کرنے کے پیچیدہ طریقے کو بھی نئی شکل دی۔ ایک شوقین قاری جب بھی کوئی اچھی چیز پڑھتا تو اسے اس شعبے میں کام کرنے والے متعلقہ شخص کو ارسال کردیتا۔ مجھے اکثر ایسی چیزیں حاصل ہوئی ہیں۔

کپل مشرا کو جس طرح دہلی بی جے پی کا نائب صدر بنایا گیا اس پر خود بی جے پی لیڈر حیران ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو یہ تقرری قومی سطح پر کیے گئے فیصلے کے تحت کی گئی ہے۔ کیونکہ چار دن پہلے اعلان کردہ ریاستی بی جے پی ٹیم میں کپل مشرا کا نام دور دور تک شامل نہیں تھا۔

منی پورتشدد کے موضوع پر ضابطہ 267 کے تحت بحث کے مطالبہ پر زور دیتے ہوئے کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ حکومت کو اسے وقار کو موضوع نہیں بنانا چاہئے۔

Haryana Violence: مرکزی وزیرمملکت راؤ اندر جیت سنگھ نے شوبھا یاترا میں تلوار لے جانے پرسوال اٹھاتے ہوئے غلط قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندو فریق کی طرف سے مشتعل کرنے کا کام کیا گیا۔

پی ایم مودی اکثر مسلم خواتین کے لیے اپنی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔ اپنے حالیہ 'من کی بات' خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ اس سال 4000 سے زیادہ مسلم خواتین کا 'محرم' کے بغیر حج کرنا 'بڑی تبدیلی' ہے۔

بل کے متعلق سنگھ نے ٹویٹ کیا کہ یہ بی جے پی کی طرف سے متعارف کرایا گیا ایک اور "کیجریوال فوبیا" بل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'انڈیا' اتحاد کے تمام اراکین پارلیمنٹ ایوان میں اس بل کی مکمل مخالفت کریں گے۔

ہماری ایک سینئر ممبر رجنی پاٹل  ہیں جن کو ایک سیشن میں برخاست کیا گیا تھا ،اب دوسرا سیشن چل رہا ہے لیکن ابھی تک ان کی برخاستگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے ، یہ تو آمریت ہے اور میں کہوں گا کہ یہ ہٹلر شاہی ہے۔

دونوں رہنماوں کے چہرے پر خوشی واضح انداز میں دیکھی گئی البتہ جیسے ہی شرد پوار سے ملنے کے بعد پی ایم مودی آگے بڑھے شرد پوار نے پی ایم مودی کی پیٹھ پر تھپکی دی یعنی ان کی پیٹھ تھپتھپائی۔ جس پر سیاسی ماہرین کئی طرح کی قیاس آرائیاں کرنے لگے ہیں ۔

لوک سبھا میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز تبھی لائی جاسکتی ہے، جب اس کو 50 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہو اوراس تجویز کو صرف ایوان بالا میں ہی لاسکتے ہیں۔

منی پور تشدد پر پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان کانگریس نے بدھ 26 جولائی کو لوک سبھا میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی، جسے ایوان میں بحث کے لیے منظور کر لیا گیا تھا۔