Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

سیاسی مبصرین کے مطابق کابینہ توسیع اور وزیر اعظم کے روڈ شو کے ذریعے این ڈی اے نے بہار میں اپنی سیاسی مضبوطی کا واضح پیغام دیا ہے۔ گاندھی میدان میں منعقدہ تقریب کو این ڈی اے کی سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور مشترکہ کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے یہ واضح کر دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف سخت موقف رکھتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

بھارت اور ویتنام نے باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان بدھ کے روز جاری مشترکہ بیان میں کیا گیا، جو وزیر اعظم نریندر مودی اور ویتنام کے صدر تو لام کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔

اس دوطرفہ ملاقات میں دفاع، تجارت، معیشت اور علاقائی و عالمی مسائل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے بھی ویتنامی صدر سے ملاقات کی اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ 

صدر تو لام اپنے دورے کے دوران ممبئی بھی جائیں گے، جہاں وہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں بزنس فورم میں شرکت کریں گے اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کریں گے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی پیش قدمی قابل ذکر رہی ہے۔ منی پور، میگھالیہ اور میزورم میں جہاں 2013 میں پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں تھا، اب وہاں بالترتیب 36، 2 اور 2 ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی نے اپنی موجودگی قائم کرتے ہوئے سات نشستیں حاصل کی ہیں، جو اس کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔

فرانس کے شہر نیس میں ایک شاندار ‘ڈیپ ٹیکنالوجی’ نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس اہم بین الاقوامی پروگرام کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون مشترکہ طور پر کریں گے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کی نئی جہت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 تک ملک میں بینکوں کا مجموعی بقایا قرض 212.9 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں تقریباً 29 لاکھ کروڑ روپے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ عوام اور کاروباری طبقے کی بڑھتی مالی ضروریات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔