Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیر اعظم  مودی کے اس دورے کو ترقیاتی اور سیاسی دونوں لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے دورے کے دوران وہ بَنارس لوکوموٹیو ورکس  میں ایک بڑے خواتین اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ شہر کے لیے 100 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد بھی رکھا جائے گا۔

مغربی بنگال کے انتخابی ماحول کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک مختلف اور پرسکون انداز اُس وقت سامنے آیا جب انہوں نے جمعہ کی صبح کولکاتا میں ہُگلی دریا کے کنارے وقت گزارا۔ انتخابی مصروفیات کے باوجود یہ لمحہ خاصا منفرد رہا، جہاں انہوں نے نہ صرف قدرتی مناظر سے لطف اٹھایا بلکہ مقامی افراد سے بھی خوشگوار ملاقات کی۔

رتنا دیبناتھ نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی سے ملاقات کے دوران انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی لڑائی کا ذکر کیا، جس پر وزیر اعظم نے ان کی ہمت کی تعریف کی۔ ان کے مطابق ”وزیر اعظم نے مجھ سے کہا کہ میں بہت بہادری کے ساتھ لڑ رہی ہوں۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتی ہوں اور اس کا نام اور تصویر دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر میرا حوصلہ بڑھایا“۔

وزیر اعظم نے ریلی میں موجود ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود عوام کی بڑی تعداد کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ لوگوں کا یہ جذبہ اور محنت رائیگاں نہیں جائے گی، ہم ترقی کے ذریعے آپ کو سود سمیت جواب دیں گے“۔ ان کے اس بیان پر مجمع نے زوردار تالیاں بجا کر ردعمل دیا۔

سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے سات اراکین، جن میں راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، کی مبینہ بغاوت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنجے سنگھ نے اس پیش رفت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے چلایا جانے والا ’آپریشن لوٹس‘ قرار دیتے ہوئے اسے پنجاب کے ساتھ غداری اور آئندہ انتخابات سے قبل ایک منظم سازش بتایا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ برسوں میں پنچایتی نظام نے دیہی علاقوں میں نمایاں تبدیلیاں لائی ہیں۔ صفائی مہمات، پانی کے تحفظ اور ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی نے گاؤں کی تصویر بدل دی ہے اور دیہی بھارت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کے روز مغربی بنگال کے دم دم اور جادوپور میں انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ وہ صبح تقریباً 11:30 بجے دم دم پہنچیں گے جہاں ایک بڑی ریلی سے خطاب کریں گے، جس کے بعد دوپہر 1 بجے جادوپور میں دوسری ریلی منعقد ہوگی۔

ٹرمپ کے اس بیان پر بھارت کی سیاسی جماعتوں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اسے ملک کی توہین قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو امریکہ کے سامنے اٹھائیں

سابق امریکی سفیر کے مطابق نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کا کردار مزید اہم ہونے کی توقع ہے۔

وزیر اعظم کے اس دورے کے دوران کئی اہم سرکاری پروگرام منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جن کے لیے ریاستی انتظامیہ نے جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اگرچہ ابھی تک دورے کا مکمل شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم مختلف مقامات پر تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔