Bharat Express DD Free Dish

Parliament House

ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ یا تو وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آنے سے گریز کر رہے ہیں یا پھر وہ پارلیمنٹ کی توہین کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ ایوان میں حاضر نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اہم معاملات پر حکومت کو جوابدہی سے نہیں بچنا چاہیے۔اس سے قبل بھی دن کے آغاز میں راجیہ سبھا کی کارروائی این ڈی اے اور اپوزیشن اراکین کے شدید ہنگامے کے باعث دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی،

اس سے قبل 5 جولائی کو بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی اپنے پیش رو نتیش کمار سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر دونوں لیڈروں کے درمیان ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس سے قبل مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

حکومت نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں مرکزی مسلح پولیس فورسز (جنرل ایڈمنسٹریشن) بل 2026 کو منظور کرا لیا ہے، جسے ملک کی اندرونی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کی سمت اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا اور احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

ان قیاس آرائیوں کے درمیان ششی تھرور نے خود اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے اپنی وضاحت پیش کی۔ ششی تھرور نے اپنے پیغام میں لکھا، ’’جس دیے کو طوفان میں جلنا ہو، اسے سنبھل سنبھل کر چلنا ہوگا۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘

پارلیمنٹ میں نظم و ضبط اور اراکین کی فعال شرکت کو یقینی بنانے کے لیے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ بجٹ اجلاس 2026 سے اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے حاضری درج کرانے کا نیا اسمارٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا۔

لوک سبھا کے کل 543 ممبران پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا کے 233 منتخب اور 12 نامزد ممبران نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ دیں گے۔

جمال صدیقی نے اکھلیش کی میٹنگ پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی پہلی منزل پر خواتین تھیں جن کے سر نہیں ڈھکے تھے اور ان کے کپڑے مسجد کے وقار کے مطابق نہیں تھے۔ اس سے مسجد کے احاطے کی توہین ہوئی ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کو مذہبی مقام کے وقار کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ وہ اس کی شکایت مسجد انتظامیہ سے کریں گے۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس پیر کے روز سے شروع ہو گیا ہے، حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ’آپریشن سندور‘ پر تلخ تکرار نے ایوان میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں جہاں پہلگام دہشت گردانہ حملے پر حکومت سے جواب اور آپریشن سندور کی شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی کی۔

13 دسمبر 2023 کو کچھ لوگوں نے پارلیمنٹ کے اندر ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں پیلے رنگ کا اسپرے بھی کیا تھا۔ پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی مظاہرے ہوئے تھے۔

یہ 123 عبادت گاہوں کے جاری سروے کا حصہ ہے جہاں حکومت کا دعویٰ ہے کہ وقف بورڈ نے اپنا حق ملکیت کھو دیا ہے۔ یہ ایک تاریخی مسجد ہے۔ یہ کم از کم 350 سال پرانا ہے۔ درحقیقت انگریزوں نے 1880 میں اس کی زمین کے سروے کا حکم دیا تھا۔