Bharat Express DD Free Dish

nuclear program stance

سال 2008 میں طے پانے والا بھارت-امریکہ سول نیوکلیئر معاہدہ ایک بار پھر سیاسی اور اسٹریٹجک بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سال 2009 کے ایک امریکی سرکاری دستاویز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا اس وقت کی UPA حکومت نے بھارت کے سِول نیوکلیئر پروگرام کو بین الاقوامی ادارے IAEA کی مستقل نگرانی میں دے کر ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا تھا۔

مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی عرب ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلۂ جوہری کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔