Bharat Express DD Free Dish

Northeast India

AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں کے دائرہ اختیار والے علاقے مستثنیٰ، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش کے کچھ علاقوں میں بھی AFSPA میں توسیع۔

حکومت کے مطابق یہ منصوبہ سات اہم لاجسٹک مراکز کو بھی آپس میں جوڑے گا، جن میں تین بڑے ریلوے اسٹیشن، دو ہوائی اڈے اور دو آبی راستوں کے ٹرمینل شامل ہیں۔ اس سے شمال مشرقی خطے میں تجارت، سیاحت، صنعت اور نقل و حمل کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔

محکمہ کے مطابق 28 جون تک اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں بیشتر مقامات پر بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

حلف برداری تقریب کے فوراً بعد نئی حکومت کی پہلی کابینہ میٹنگ بھی منعقد ہونے والی ہے۔ ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ نئی مدت کار میں بی جے پی کے انتخابی وعدوں اور ترقیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے این ڈی اے پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، حکومت اس پر پوری طرح کھرا اترنے کی کوشش کرے گی۔

وزیراعظم نریندر مودی کا یہ دورہ نہ صرف سکم کی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ریاست میں ترقی کے ایک نئے دور کا اشارہ بھی دیتا ہے، جو بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں لا سکتا ہے۔

وزیراعظم کا یہ دورہ سکم کی ریاست حیثیت کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر خاص اہمیت رکھتا ہے اور ان منصوبوں کو ریاست کی ترقی کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

رونگالی بیہو یا بوہاگ بیہو آسام کا سب سے اہم اور ثقافتی تہوار ہے، جو اپریل کے وسط (آسامی کیلنڈر کے مہینے ’باہاگ‘ کے آغاز) میں بہار کی آمد اور فصل کی کٹائی کے جشن کے طور پر سات دن تک منایا جاتا ہے۔ یہ نیا زرعی سال، خوشحالی اور نئی زندگی کی علامت ہے۔

یہ ملاقات سکم کی ترقی اور مرکز کے ساتھ بہتر اشتراک کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اضافی فنڈز اور نئی اسکیموں کے ذریعے ریاست میں بنیادی ڈھانچے، معیشت اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

آسام کی 126 رکنی اسمبلی کے لیے 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی جبکہ 4 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ بی جے پی اپنی مہم میں یو سی سی، دراندازی کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کو مرکزی نکات کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

امت شاہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے دراندازوں کو تحفظ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ماضی میں ایسے قوانین بنائے جن سے غیر قانونی دراندازی کو فروغ ملا۔ امت شاہ نے شہریت ترمیمی قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اس کی مخالفت محض سیاسی فائدے کے لیے کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے ماضی میں ایسے اقدامات کیے جن سے آسام میں دراندازی بڑھی۔