Bharat Express DD Free Dish

NITI Aayog

پی ایم مودی نے ملک کی ورک فورس میں خواتین کی تعداد بڑھانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں اپنے ورک فورس میں خواتین کو شامل کرنے کے سمت میں کام کرنا چاہیے۔ ہمیں ایسے قوانین اور پالیسیاں بنانے چاہئیں جو خواتین کو باعزت طریقے سے ورک فورس میں شامل کیا جا سلکے۔‘‘

گورننگ کونسل کی 10ویں میٹنگ میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنرز، مرکزی وزراء اور نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین، اراکین اور سی ای او شرکت کر رہے ہیں۔

نیتی آیوگ کے سی ای او بی وی آر سبرامنیم نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستانی معیشت اگلے تین سالوں میں جرمنی اور جاپان سے بھی آگے بڑھ جائے گی اور 2047 تک دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بھی بن سکتی ہے۔

8 اپریل کو نیوز 18 کے رائزنگ انڈیا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے سب سے کم ترقی یافتہ اضلاع کے لیے ان کی حکومت کی طرف سے کیے گئے کام کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خواہش مند اضلاع نے قومی اور ریاستی اوسط سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

رپورٹ میں ملک کی اقتصادی ترقی میں خواتین کے ابھرتے ہوئے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے، ان کی غیر استعمال شدہ صلاحیتوں اور انہیں درپیش نظامی رکاوٹوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ خواتین ملک کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل ہیں لیکن جی ڈی پی میں ان کا حصہ صرف 18 فیصد ہے۔

امیتابھ کانت کے مطابق، بھارت موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں ملک کے ڈی کاربنائزیشن کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے گرین ہائیڈروجن کی پیداوار اور تقسیم کے ساتھ بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

نیتی آیوگ کے سی ای او بی وی آر سبھرامنیم نے ڈیٹا پر مبنی نقطہ نظر اور ثبوت پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیراعظم مودی کی قیادت والی نیتی آیوگ کی میٹنگ میں ریاست کے نمائندہ کے طورپرنائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور وجے کمارسنہا شامل ہوئے ہیں۔ نتیش کمارکی اس میٹنگ میں نہ آنے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

کانگریس کے زیراقتدارریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان، کیرلا کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین اورتمل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے نیتی آیوگ کی میٹنگ میں شامل نہیں ہونے کا فیصلہ کیا۔

کرناٹک، کیرالہ، تلنگانہ، تمل ناڈو، ہماچل، پنجاب اور دہلی کی حکومتوں نے نیتی آیوگ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ان ریاستوں کا الزام ہے کہ بجٹ میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔