Bharat Express DD Free Dish

New Zealand

وزیر اعظم نریندر مودی کے نیوزی لینڈ کے دورے کو لے کر وہاں مقیم بھارتی برادری میں زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی آسٹریلیا اور انڈونیشیا کا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعہ کو نیوزی لینڈ پہنچنے والے ہیں۔

10 اور 11 جولائی پر مشتمل اس دو روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم مودی کی "ایکٹ ایسٹ" پالیسی کے تحت انڈو پیسیفک خطے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر خصوصی توجہ رہے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان سمندری سلامتی، اسٹریٹجک شراکت داری اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ہند نژاد برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ اس بڑی بھارتی برادری سے خطاب کے منتظر ہیں، جس نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

دورے کے آخری مرحلے میں وزیراعظم مودی 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ تقریباً چار دہائیوں بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔آکلینڈ میں وزیراعظم مودی اپنے نیوزی لینڈ کے ہم منصب کرسٹوفر لکسن سے ملاقات کریں گے۔

مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان صدیوں پر محیط ثقافتی اور عوامی روابط موجود ہیں اور ان کا یہ دورہ دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کو مزید گہرا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے بھی ملاقات کریں گے اور صدر پرابوو کے ساتھ یوگیاکارتا میں واقع تاریخی پرمبانن مندر کا دورہ بھی کریں گے،

35 سالہ بین اسٹوکس نے 2011 میں انگلینڈ کے لیے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے 2019 کے ایک روزہ عالمی کپ اور 2022 کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں انگلینڈ کو عالمی چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

وزیراعظم مودی 10 جولائی کو میلبورن میں منعقد ہونے والے تیسرے بھارت۔آسٹریلیا سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، اجلاس میں سائبر سکیورٹی، سپلائی چین کی مضبوطی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

بین سیئرز کی غیر موجودگی میں تجربہ کار فاسٹ بولر بین لسٹر کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ 30 سالہ بین لسٹر آئندہ چند روز میں گیانا میں موجود نیوزی لینڈ ٹیم کو جوائن کریں گے۔ انہوں نے 2023 میں کراچی میں پاکستان کے خلاف اپنا ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا

ایران کے اسٹرائیکر مہدی طارمی نے موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ کھلاڑیوں اور معاون عملے کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال سے تھک چکے ہیں۔ یہ بہت خراب ہے اور اس کا براہ راست اثر ہماری ٹیم کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔

وراٹ کوہلی اور کین ولیمسن کی بین الاقوامی کرکٹ میں بطور کھلاڑی اور کپتان شروعات تقریباً ایک ہی دور میں ہوئیں اور اب دونوں کی بین الاقوامی کیریئر کا اختتام بھی قریب قریب ایک ہی وقت میں ہوا ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی قومی ٹیموں کو عالمی سطح پر کئی یادگار کامیابیاں دلائیں اور جدید دور کے بہترین بلے بازوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔