Bharat Express DD Free Dish

Middle East

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ساتھیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ قتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی موت نے قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، تاہم ان کا مشن پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جاری رہے گا۔

سعودی عرب سمیت 12 ممالک آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، پاکستان، قطر، شام، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے ایران کے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔ بیان میں ایران پر زور دیا گیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرے اور خطے کے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ بے سبب چھیڑی گئی اس دہشت گردانہ جنگ کا شدید نقصان امریکہ و اسرائیل کے علاوہ ایسے ممالک کے حکمرانوں کو بھی ہورہا ہے جو کبھی ایران کے دوست اور سفارتی پاسدار ہوا کرتے تھے لیکن آج اسرائیلی اور امریکی فریب و مکر یا پس پردہ خوف و مجبوری کے سبب خاموش تماش بین بنے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق منگل کی رات ایک حملہ کیا گیا، تاہم اس کے نتائج کے بارے میں حتمی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں اور اسماعیل خطیب کی حالت کے بارے میں بھی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ بعض ایرانی میڈیا اداروں نے بھی حملے کی کوشش کی خبر دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کی ساحلی پٹی پر واقع میزائل ٹھکانوں پر 5,000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے آبنائے ہرمز کے قریب کیے گئے، جسے دنیا کا نہایت اہم توانائی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں ایران کے اینٹی شپ کروز میزائل سسٹم موجود تھے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ بات چیت میں ہندوستان نے یو اے ای پر ہونے والے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی، جن میں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ وزیراعظم نے خطے میں امن، استحکام اور سیکیورٹی کی جلد بحالی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، ان حملوں میں بھاری بموں کا استعمال کیا گیا ہے جو مضبوط اور محفوظ ٹھکانوں کو بھی تباہ کر سکتے ہیں۔ یہ میزائل ٹھکانے ایران کے ساحلی علاقوں میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع تھے، جہاں تعینات اینٹی شپ میزائل گزرنے والے تجارتی اور فوجی جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کر رہے تھے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے جنگی جہاز وہاں تعینات کریں، لیکن اس اپیل کو خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور اب تک کسی ملک نے اس کی باضابطہ حمایت نہیں کی۔  دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس ’’غیر قانونی جنگ‘‘ کے خلاف جتنا بھی وقت لگے دفاع کے لیے تیار ہے۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے درمیان وزارت خارجہ نے پیر کو بریفنگ دی کہ 28 فروری سے اب تک تقریباً 1.30 لاکھ بھارتی شہری محفوظ طریقے سے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ ایران میں پھنسے 550 بھارتی شہری پہلے آرمینیا اور بعد میں آذربائیجان پہنچ گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون ایک تیل کے ٹینکر سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔ فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور مختصر وقت میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔