Bharat Express DD Free Dish

Khawaja Muhammad Asif

پاکستانی وزیر دفاع خُواجہ آصف نے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو "انسانیت کا مجرم" قرار دیتے ہوئے امریکہ اور ترکی سے اپیل کی کہ نتن یاہو کو اغوا کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

پاکستان اس وقت شدید خوف اور بے یقینی کے ماحول میں جی رہا ہے، جہاں خود پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف بار بار بھارت کے ممکنہ حملے کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دہلی اور جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کے بعد پاکستانی وزیر دفاع کے بیانات مسلسل سامنے آ رہے ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے اور اس حوالے سے پاکستان مکمل الرٹ پر ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت میں ہونے والے خودکش دھماکے نے خطے میں ایک نئی سیاسی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ دھماکے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے۔ واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کا الزام بھارت پر عائد کیا، جس پر نئی دہلی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ نے 'آپریشن سندور' کے دوران پانچ پاکستانی لڑاکا طیاروں اور ایک بڑے طیارے کو مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اسے بھارت کی جانب سے زمین سے فضا میں مار کرنے کا اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ قرار دیا۔

واضح رہے کہ  پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے چند روز قبل اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خود اعتراف کیا تھا کہ ان کا ملک گزشتہ تین دہائیوں سے یورپ اور امریکہ کے لیے دہشت گردوں کی پرورش کر رہا ہے۔

آپ کو بتادیں کہ آپریشن سندور کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان نے 8 اور 9 مئی کی درمیانی شب بھارتی سرحد پر ایک ساتھ متعدد حملے کرنے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان کی جانب سے ڈرون اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے بھارتی سرحدوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد مرکزی حکومت نے سندھ آبی معاہدہ کو ملتوی کر دیا ہے۔ اس سے ہندوستان سے گزرنے والے دریاؤں سے پاکستان کو پانی کی فراہمی میں خلل پڑے گا۔ پاکستان ہندوستان کے اس فیصلے سے ناراض ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان دہشت گردی کو فروغ دینا بند نہیں کرتا

پاکستان کے وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ "ہم 30 سال سے امریکہ کے لیے دہشت گردی کا گھناؤنا کام کر رہے ہیں۔" یہ بیان بھارت کے خدشات کو درست ثابت کرتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو پہلے لندن گراؤنڈ اسٹیشن پر نامعلوم شخص نے روکا اور پھر گالیاں اور چاقو سے حملہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔