JNU Controversy: ”نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بنے گا جے این یو“، دیر رات نعرے بازی پر انتظامیہ سخت، طلبہ کے خلاف کارروائی کے اشارے
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ دیر رات مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض نعرے لگانے کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیمپس کو کسی بھی صورت نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
Objectionable slogans: جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں قابل اعتراض نعروں پر تنازع، سابرمتی ہاسٹل کے باہر نعرے بازی پر ایف آئی آر کی درخواست
پیر کے روز سپریم کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے ایک معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد جے این یو کیمپس میں یہ واقعہ پیش آیا۔ جے این یو انتظامیہ نے پولیس سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔





