Bharat Express DD Free Dish

Jawaharlal Nehru

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ 2004 میں سیاست میں آئے تھے اور اس وقت ہندوستان جمہوری طور پر ایک آزاد ملک تھا۔ تاہم، ان کے مطابق، 2014 میں کئی بنیادی تبدیلیاں کی گئیں، جن کے اثرات اب ہر ہندوستانی کے سامنے واضح ہونے جا رہے ہیں۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ انہیں بچپن سے ہی یہ سکھایا گیا ہے کہ انہیں ہمیشہ ہندوستان کے لوگوں کی آواز بننا ہے اور ان کے حقوق کے لیے پوری مضبوطی کے ساتھ بات کرنی ہے۔

وینکیا نائیڈو نے اپنے مضمون میں لکھا کہ آزاد بھارت نے جواہر لعل نہرو سے لے کر نریندر مودی تک پندرہ وزرائے اعظم دیکھے ہیں، جنہوں نے مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی حالات میں ملک کی خدمت کی اور متعدد چیلنجز کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی داستان ان سب میں منفرد ہے۔

سابق صدر کے مطابق وزیر اعظم مودی نے بھارتی زبانوں، روایات، قومی علامات اور اعتقادی نظام کو نمایاں مقام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارتی عوام میں اپنی شناخت اور ثقافت کے اظہار پر واضح فخر محسوس کیا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے چار ہزار تین سو ننانوے دن تک منصب پر رہنے کا ریکارڈ قائم کیا، جو اس سے قبل جواہر لعل نہرو کے نام تھا۔

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ راہل گاندھی نے ووٹ چوری کے خلاف یاترا نکالی، مگر یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے گھسپیٹیوں کے لیے یاترا نکالی۔ تو کیا یہاں کے ووٹر گھسپیٹیے ہیں؟ مہاگٹھ بندھن عوام کے حقوق کی لڑائی لڑ رہا ہے۔

اگست 1947 کو نئی دہلی میں ایک اجلاس ہوا ،جس کی صدارت اس وقت کے برطانوی وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کی اور اس میں اس وقت کے خان آف قلات، قلات کے وزیر اعلیٰ مسلم لیگ کے سربراہ محمد علی جناح اور انڈین نیشنل کانگریس کے سربراہ جواہر لعل نہرو نے شرکت کی۔

فواد حسین راہل گاندھی کی تعریف کر چکے ہیں۔ راہل کی تعریف میں انہوں نے ایکس پر راہل کی تقریر کا ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔ انہوں نے اس پوسٹ کو ’’راہل آن فائر‘‘ کا عنوان دیا ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے بی جے پی لیڈران سری لنکا کو کچاتھیو جزیرہ دینے کے معاملے پر نہرو اور اندرا گاندھی کی قیادت والی سابقہ ​​کانگریس حکومتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

جب لیاقت علی خان پاکستان کے وزیر اعظم تھے تو انہوں نے اور ہندوستانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے 1950 میں دہلی میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جسے عام طور پر نہرو-لیاقت معاہدہ کہا جاتا ہے۔