Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel Controversy

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آئندہ پانچ دنوں تک ایران کی توانائی تنصیبات پر کوئی فوجی حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ حالیہ بات چیت مثبت اور تعمیری رہی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے ٹرمپ کی اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے توانائی مراکز بھی ایران کی دسترس میں ہیں اور انہیں ایک ہی دن میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس طرح کے اقدامات عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کی ساحلی پٹی پر واقع میزائل ٹھکانوں پر 5,000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے آبنائے ہرمز کے قریب کیے گئے، جسے دنیا کا نہایت اہم توانائی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں ایران کے اینٹی شپ کروز میزائل سسٹم موجود تھے۔

اسرائیل کے وزارت دفاع نے منگل کو علی لاریجانی کی ہلاکت کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے رات دیر سے اس کی تصدیق کی۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، لاریجانی اسی وقت ہلاک ہوئے جب وہ تہران کے بیرونی علاقے میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے موجود تھے۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے درمیان وزارت خارجہ نے پیر کو بریفنگ دی کہ 28 فروری سے اب تک تقریباً 1.30 لاکھ بھارتی شہری محفوظ طریقے سے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ ایران میں پھنسے 550 بھارتی شہری پہلے آرمینیا اور بعد میں آذربائیجان پہنچ گئے ہیں۔

میکرون نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یاد دلایا کہ فرانس اپنے قومی مفادات، خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے پوری طرح دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں فرانس یا اس کے مفادات کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق، حالیہ حملوں میں ایران کے تقریباً 200 شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اصفہان نمایاں ہے۔ تہران اور مشہد کے بعد اصفہان ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے اور اسے ایران کا اہم صنعتی و فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں میزائل اور دفاعی پیداوار سے متعلق کئی اہم ادارے موجود ہیں، جو شہر کی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔

وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم مہاجن نے 14 مارچ کو نئی دہلی میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے باعث بھارتی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اب تک پانچ بھارتی شہریوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شہری لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور تیل کے بحران کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو یقین دلایا کہ بھارت مکمل تیاری کے ساتھ حالات سے نمٹ رہا ہے۔ ایل پی جی کی کمی کی خبروں پر انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ خوف اور گھبراہٹ پھیلا کر اپنا ایجنڈا چلا رہے ہیں۔