Bharat Express DD Free Dish

Infrastructure Push

وزیراعظم نے بتایا کہ متحدہ آندھرا پردیش کے دور میں اس خطے کے لیے ریلوے بجٹ ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی کم تھا، جبکہ آج صرف تلنگانہ کا ریلوے بجٹ تقریباً 5,500 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اس وقت تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے کے ریلوے پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔

آئی ایم ای سی منصوبہ صرف ایک اقتصادی راہداری نہیں بلکہ ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بھارت اور اس کے شراکت دار ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ یہ خود کو ایک شفاف، مستحکم اور قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر کس حد تک ثابت کر پاتا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق ’’اسمال ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم‘‘ کو مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک نافذ کیا جائے گا۔ اس کے تحت 1 سے 25 میگاواٹ صلاحیت کے منصوبے مختلف ریاستوں میں قائم کیے جائیں گے، خاص طور پر پہاڑی اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں اس طرح کے منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان علاقوں میں اس اسکیم کے ذریعے توانائی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم نے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ ریلوے منصوبوں، تیز رفتار شاہراہوں اور زرعی کالج جیسے اقدامات سے روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب براک ویلی ایک لاجسٹک اور تجارتی مرکز بن جائے گی تو یہاں کے نوجوانوں کے لیے ملازمت اور خود روزگار کے دروازے وسیع پیمانے پر کھلیں گے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ماحول دوست ایندھن اور نئی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق بایو فیول، الیکٹرک گاڑیاں اور متبادل توانائی کے ذرائع مستقبل میں آلودگی کم کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار گھٹانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ دہلی صرف بھارت کا دارالحکومت نہیں بلکہ ملک کی شناخت اور توانائی کی علامت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی ترقی صرف ایک شہر کی ترقی نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق پورے ملک کی عالمی شبیہ سے ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد دہلی میں ترقیاتی کام تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور حکومت شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے مشن موڈ میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی صرف بھارت کا دارالحکومت نہیں بلکہ ملک کی شناخت اور توانائی کی علامت بھی ہے۔ دہلی کی ترقی دراصل پورے ملک کی ترقی اور عالمی سطح پر بھارت کی بہتر تصویر سے جڑی ہوئی ہے۔

منصوبے کے تحت جن کالونیوں کو دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے ان میں سروجنی نگر، نیتا جی نگر، نوروجی نگر، کستوربا نگر، تیاگ راج نگر، سری نواس پوری اور محمد پور شامل ہیں۔ یہ منصوبہ تقریباً 537 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

سرکاری شیڈول کے مطابق امت شاہ اپنے دورے کا آغاز صبح مدھیہ پردیش کے ’’گروتھ سمٹ‘‘ میں شرکت سے کریں گے، جو گوالیار کے علاقے تھاٹی پور میں میلہ گراؤنڈ پر منعقد ہو رہا ہے۔ اس سمٹ میں ریاست کی معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور صنعتی امکانات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔