Bharat Express DD Free Dish

Indian youth congress

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا مطالبہ، ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم کے تحت ملک بھر میں ’نوکری مارچ‘ اور ’ڈگری مارچ‘ کا اعلان

انڈین نیشنل کانگریس کی نوجوان شاخ انڈین یوتھ کانگریس کا قیام 9 اگست 1960 کو عمل میں آیا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ کانگریس پارٹی کا حصہ تھی، تاہم بعد میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اسے پارٹی کے ایک فرنٹل آرگنائزیشن یعنی ذیلی تنظیم کے طور پر قائم کیا۔تنظیم کے مطابق اس وقت اس کے 2 کروڑ سے زیادہ رجسٹرڈ ارکان ہیں۔

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ جب بھی حکومت اپنی ہٹ دھرمی اورغلط پالیسیوں کے ذریعہ ہمارے حقوق کوپامال کرنے کی کوشش کرے توملک بھر کے شہریوں کوحکومت کو بیدارکرنے اوراپنے مفادات کے تحفظ کے لئے احتجاج کرنا چاہئے۔

اے آئی سمٹ احتجاج معاملے میں انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر اور دیگر کارکنان کی گرفتاری کے بعد ملکی سیاست میں ایک بار پھر شدید ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے اس کارروائی کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔

یوتھ کانگریس کارکنان کے وکیل نے کہا کہ تمام ملزمان ایک اپوزیشن سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں اور انہوں نے بھارت منڈپم میں پُرامن احتجاج کیا۔ ان کے خلاف ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ انہوں نے کسی کو نقصان پہنچایا ہو۔ احتجاج کرنا آئینی حق ہے، اس لیے پولیس ریمانڈ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

کانگریس سے وابستہ کارکنان کا مؤقف ہے کہ ان کا احتجاج مجوزہ انڈو۔یو ایس ٹریڈ ڈیل کے خلاف تھا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ ملکی اقتصادی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکومت بین الاقوامی تجارتی معاہدوں میں مقامی صنعتوں اور نوجوانوں کے مفادات کو نظرانداز کر رہی ہے۔

راہل گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر انڈین یوتھ کانگریس کی جانب سے نئی دہلی کے تال کٹورا اسٹیڈیم میں ایک روزگار میلہ بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔

بہار اسمبلی کا مانسون اجلاس جاری ہے۔ اس اجلاس کے دوران یوتھ کانگریس کے کارکنان اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے پہلے ہی انہیں آگے نہ بڑھنے کو کہا تھا۔ اس کے باوجود یوتھ کانگریس کے کارکنان اپنی ضد پر ڈٹے رہے اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سوشل میڈیا پر 'مودی کا پریوار' مہم شروع کرکے اپنے لیڈر کی حمایت کی ہے۔ جیسے ہی بی جے پی کے کئی لیڈران نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں 'مودی کا پریوار' لکھا، کانگریس نے منگل کے روز سوال کیا کہ کیا مفرور کاروباری نیرو مودی اور وجے مالیا بھی اس خاندان کا حصہ ہیں؟

بی جے پی آر ایس ایس صرف اقتدار چاہتی ہے اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے۔ اقتدار کے لیے وہ منی پور کو جلا دیں گے، پورے ملک کو جلا دیں گے۔ انہیں ملک کے دکھ درد کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ راہل نے کہا کہ آر ایس ایس-بی جے پی اور کانگریس کے درمیان نظریاتی جنگ چل رہی ہے۔