Bharat Express DD Free Dish

Indian PM Modi

ریاستی حکومت کے مطابق یہ تقریب اڈیشہ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف شعبوں میں ہونے والی ترقی، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا اہم موقع ہوگی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مرکزی اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں اڈیشہ نے ترقی کے مختلف میدانوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

بات چیت کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میانمار کا ایک قابل اعتماد ہمسایہ اور مشکل حالات میں مدد فراہم کرنے والا شراکت دار رہا ہے اور آئندہ بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

ہریانہ کے کرنال شہر کے نیہرو پلیس مارکیٹ میں پیزا اسٹال چلانے والے مندیپ تنیجا اس اسکیم کے ایک نمایاں فائدہ اٹھانے والے ہیں، جنہوں نے اسے ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اسکیم ان کی زندگی میں امید کی نئی کرن بن کر آئی اور ان کے بکھرتے ہوئے کاروبار کو دوبارہ سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

میانمار کے صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ایسے تمام گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گی جو میانمار کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے خلاف سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سلامتی سے متعلق چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

آنگ سان سوچی کا معاملہ میانمار میں 2021 کے فوجی اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا۔ فوج نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سوچی کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے تھے، جن میں بدعنوانی، کووڈ ضوابط کی خلاف ورزی اور فوج کے خلاف عوامی اشتعال انگیزی جیسے الزامات شامل تھے۔ بعد ازاں انہیں طویل قید کی سزا سنائی گئی، جسے بعد میں گھر میں نظربندی میں تبدیل کر دیا گیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور میانمار کے صدر یو من آنگ ہلینگ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر دونوں لیڈروں نے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ تمل ناڈو کے نئے وزیراعلیٰ بننے کے بعد وزیر اعظم سے وجے کی یہ پہلی ملاقات رہی۔

وزیر اعلیٰ مانک ساہا نے سوشل میڈیا کے ذریعے ملاقات کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ تریپورہ کی ترقی سے متعلق کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ ان کے مطابق گفتگو میں ریاست کی اقتصادی ترقی، بہتر نظم و نسق، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور تنظیم کو نچلی سطح تک مضبوط بنانے جیسے معاملات شامل رہے۔

منگل کو جاری ایک تفصیلی بلاگ میں نائب صدر نے کہا کہ بھارت اب صرف ایک ترقی پذیر ملک نہیں رہا بلکہ دنیا کو نئی سمت دکھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے سوامی وویکانند، تروولور اور مہاکوی سبرامنیم بھارتی کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔

وزیر اعظم مودی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جاپان کے وزیر خارجہ سے ملاقات نہایت خوشگوار رہی اور دونوں ممالک نے خطے میں امن و ترقی کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور جاپان کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری ہند-بحرالکاہل خطے میں استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔