Bharat Express DD Free Dish

Indian economy growth

بی جے پی لیڈر نے کہا کہ یہ معاشی کامیابی کسی اتفاق یا معجزے کا نتیجہ نہیں بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش پالیسیوں اور مستحکم حکومت کی مرہونِ منت ہے۔انہوں نے وزیر اعظم مودی کے ’’وکست بھارت 2047‘‘ (ترقی یافتہ بھارت 2047) وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ہدف ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہونے تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ عالمی طاقت اور ’’وشو گرو‘‘ کے طور پر قائم کرنا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت عوامی خدمات کو بہتر بنانے اور کاروبار کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے مواقع میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور آنے والے وقت میں اس سمت میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

اقتصادی سروے 2025-26 پیش، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم، زرمبادلہ ذخائر 701.4 ارب ڈالر، عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار۔ مالی سال 2024-25 میں بھارت کو 135.4 ارب امریکی ڈالر کی رقوم موصول ہوئیں، جو بیرونی کھاتے کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

بھارتی معیشت اس وقت ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے عالمی ماہرین معاشیات ’گولڈی لاکس فیز‘ کہتے ہیں۔ ایک ایسا وقت جب اقتصادی شرحِ ترقی مضبوط ہو، مہنگائی قابو میں ہو اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے۔ رِیزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترہ نے اپنی پہلی سالانہ مانیٹری پالیسی پیش کرتے ہوئے بھارتی معیشت کو ’’دُرلبھ گولڈی لاکس پیریڈ‘‘ میں قرار دیا۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے بھارت کو کئی بڑے معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ دعویٰ ورلڈ بینک کی ماہرِ معیشت فرانجسکا اوہنسارگے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت AI سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہت اچھی پوزیشن میں ہے۔

فچ ریٹنگز کے مطابق اگرچہ ابتدائی سہ ماہی کی نمو حوصلہ افزا ہے، تاہم مالی سال کی دوسری ششماہی میں یہی رفتار برقرار رہنا مشکل ہے۔

ہندوستان بدستور سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اس کی شرح نمو تقریباً 6.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

کارپینٹر نے بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور کاروبار دوست پالیسیوں کو معیشت کی طویل مدتی ترقی کے لیے کلیدی عناصر قرار دیا۔

بھارت میں جی ایس ٹی وصولیوں کا مسلسل ₹2 لاکھ کروڑ سے تجاوز کرنا اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری، درآمدات میں اضافے، اور مؤثر نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین اس رجحان کو ٹیکس ڈھانچے کی بہتری اور پالیسی سازی کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔